محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود مجھے ابو حفص کنیت عطا فرمائی۔‘‘(1)
(2)…حضرت سیِّدُنا زید بن ابی اوفی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار مسجد نبوی میں نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا: ’’قَدْ كُنْتَ شَدِیْدَ الشَّغْبِ عَلَیْنَا اَبَا حَفْصٍ فَدَعَوْتُ اللہَ اَنْ یُّعِزَّ الدِّیْنَ بِكَ اَوْ بِاَبِیْ جَھْلٍ فَفَعَلَ اللہُ ذٰلِكَ بِكَ یعنی اے ابو حفص! اسلام لانے سے قبل تم ہم پر بہت سخت تھے ، پھر میں نے رب عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کی کہ وہ تمہارے ذریعے یا ابو جہل کے ذریعے دین کو عزت عطافرمائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے ذریعے دین کو عزت عطا فرمائی۔ ‘‘(2)
فاروقِ اعظم کی کنیت بامسمی ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عربی زبان میں ’’حفص‘‘شیر کے بچے کو کہتے ہیں ، اسی لیے شیر کی کنیت ’’ابو حفص‘‘ ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی چونکہ اسلام کے شیر ہیں اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبولِ اسلام سے لے کر وصالِ ظاہری تک جتنا فائدہ آپ کی ذات سے اِسلام کو ہوا اِتنا کسی اور خلیفہ یا حاکم سے نہ ہوا اِس وجہ سے آپ کی یہ کنیت آپ پر کلیۃ ً صادق آتی ہےاور آپ کو ’’ابو حفص‘‘ کہا جاتاہے۔(3)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
فاروقِ اعظم کے القابات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ’’القابات‘‘جمع ہے ’’لقب‘‘ کی ۔لقب سے مراد وہ نام ہے جو عوام میں کسی خاص وصف کے باعث مشہور ہو جائے ،نیز لقب اصل نام کے علاوہ وہ نام ہوتا ہے کہ جس میں کسی خوبی یا کسی خامی کا پہلو نکلے۔قرآن پاک میں برے القابات وناموں سے پکارنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: (وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-) (پ۲۶، الحجرات:۱۱) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو ۔‘‘
صدرالافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مستدرک حاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر مناقب ابی حذیفہ، ج۴، ص۲۳۹، حدیث:۵۰۴۲ ۔
2…معجم کبیر، زید بن ابی اوفی اسلمی، ج۵، ص۲۲۰، حدیث:۵۱۴۶۔
3…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب الثانی، ص۱۴۔