رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھتے تو اُنہیں یوں سلام کرتے: ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْاَمِيْرُ یعنی اے امیر! آپ پر سلام ہو۔‘‘ایک بار سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’اے امیر المؤمنین! اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی مغفرت فرمائے، آپ مجھے امیر کہہ کر کیوں پکار تے ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’اے اُسامہ بن زید! جب تک تم زندہ ہو میں تمہیں اسی طرح ’’امیر‘‘ ہی کہہ کر پکارتا رہوں گاکیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اِنتقال کے وقت تمہیں ہی امیر بنایا تھا۔‘‘(1)
عشق ومحبت کا دوسرا رخ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب تک آپ نے جتنے بھی اقوال وواقعات ملاحظہ کیے وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے عشق ومحبت سے متعلق تھے، اب آپ وہ احادیث مبارکہ وواقعات ملاحظہ کیجئے جو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت والفت سے متعلق ہیں ۔
شانِ فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا صدیق اکبر
صدیق اکبر کی فاروقِ اعظم سےمحبت:
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’وَاللہِ اِنَّ عُمَرَ لَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَيَّیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! تمام لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب عمر ہیں ۔‘‘(2)
عمر سے بہتر کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا:
حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکوایک بار حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یوں پکارا: ’’يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰهِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر، ج۸، ص۷۰۔
2…کنزالعمال، کتاب الفضائل، فضائل الفاروق، الجزء:۱۲، ج۶، ص۲۴۴، حدیث:۳۵۷۳۱۔