کا وہ کرتے کیا ہیں ۔ وہ غلام دينار لے کر گيا اور حضرت سیِّدُنا ابو عبيدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت حاضر ہوا اور دینار اُن کی بارگاہ ميں پيش کر دئيے۔ انہوں نے کچھ غور کيا پھر ان سب کو تقسیم کر ديا۔فاروقِ اعظم کا غلام آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس لوٹ آيا اور سارا واقعہ عرض کر دیا۔غلام نے یہ بھی ديکھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ايسے ہی دینار حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لئے بھی تيار کر رکھے ہیں ۔ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ دینار غلام کودے کر حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف بھيجا اوراسے ان کے ہاں ٹھہرنے کا حکم ديا تاکہ وہ ديکھ سکے کہ ان ديناروں کا وہ کيا کرتے ہیں ۔ اس نے ايسا ہی کيا اور جب حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس دینار لے کر حاضر ہوا تو انہوں نے بھی وہ دينارتقسيم کر دئيے۔ جب ان کی زوجہ محترمہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ بولیں :’’خدا کی قسم! ہم بھی مسکين ہيں ، ہميں بھی عطا فرمائيے۔‘‘ دودينار بچے تھے آپ نے وہ انہيں دے دئيے۔ پھر وہ غلام امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس لوٹ آيا اورسارا ماجرا عرض کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمايا :’’اِنَّهُمْ اِخْوَةُ بَعْضِهِمْ مِّنْ بَّعْضٍیعنی يہ لوگ آپس ميں بھائی ہيں ۔‘‘ (1)
بغیر سوال وچاہت کے جو ملے لے لو:
حضرت سیِّدُنا سائب بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابن سعدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے استفسار فرمایا: ’’تمہارے پاس کتنا مال ہے؟‘‘ عرض کیا: ’’فَرْسَان وَعَبْدَان وَبَغْلَان اَغْزُوْ بِهِنَّ وَمَزْرَعَةً آکُلُ مِنْهَایعنی دو گھوڑے ، دو غلام اور دو خچر ہیں ، ان سے میں جہاد کرتا ہوں اور ایک کھیت ہے جس سے کھاتا ہوں ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں ایک ہزار دینار عطا کیے اورارشاد فرمایا: ’’خُذْ هٰذِهٖ فَاسْتَنْفِقْهَایعنی یہ لے لو اور انہیں خرچ کرو۔‘‘ سیِّدُنا ابن سعدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:’’اِنَّهُ لَا حَاجَةَ لِيْ اِلَيْهَا وَسَتَجِدُ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ مَنْ هُوَ اَحْوَجُ اِلَيْهَا مِنِّیْ حضور!مجھے اس کی حاجت نہیں ۔شاید آپ کو مجھ سے زیادہ حاجت مند آدمی مل جائے۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’بَلٰى فَخُذْهَا فَاِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِيْ اِلٰى مِثْلِ مَا دَعَوْتُكَ اِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ الَّذِيْ قُلْتَیعنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معجم کبیر، بقیۃ المیم، ذکر مشاھد۔۔۔الخ، ج۲۰، ص۳۳، حدیث: ۴۶۔