Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
416 - 831
مبارکہ جا بجا زخمی ہو گئے، جب سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کے قدموں   کی تکلیف دیکھی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کندھوں   پر اٹھالیا اور غار کے دھانے تک لے آئے، وہاں   آپ کو اتارا پھر عرض کیا:’’ غار میں   پہلے میں  جاتا ہوں   ،اگر کوئی چیز ہوگی تو آپ سے پہلے مجھے نقصان دے گی۔‘‘ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاندر گئے اور کوئی موذی شےنہ پائی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اٹھاکر غارمیں   لے آئے،جہاں  ایک سوراخ تھا، جس میں   بچھو اور سانپ تھے، سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ڈر ہوا کہیں   کوئی موذی شے نکل کر رسول خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوتکلیف نہ پہنچائے انہوں   نے اس پر اپنا قدم رکھ دیا، تواس سوراخ میں   موجودسانپ نے آپ کے قدم پر ڈس لیا، آپ نے جنبش نہ کی کہ کہیں   حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آرام میں   خلل واقع نہ ہوجائے مگر تکلیف کے سبب آنسو چھلک پڑے، دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا یعنی اے ابو بکر!غم نہ کر،بے شک اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ا س بات سے اللہ تعالٰی نے سیِّدُنا ابوبکررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دل پر سکون نازل کردیا تو یہ تھی ابوبکر کی ایک رات۔ اور دن وہ ہے جس میں   سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے انتقال فرمایا اور کئی عرب قبائل مرتد ہوگئے تو اس موقع پر میرے منع کرنے کے باوجود حضر ت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کمال فہم و فراست اور دُور اندیشی سے کام لیتے ہوئے مرتد قبائل کے خلاف جہاد کرکے اس فتنے کو ہمیشہ کے لئے زمیں   برد کردیا۔ ‘‘ا س کے بعد حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر فضلیت دینے والوں   کوایک تہدید آمیز(یعنی سخت الفاظ والا) خط لکھا جس میں   انہیں   آئندہ ایسا کرنے سے سختی سے منع فرمادیا۔(1) 
صحابہ کرام کی مالی خیر خواہی
فاروقِ اعظم نے ۴۰۰دینار سے خیر خواہی کی:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے ایک غلام کو حضرت سیِّدُنا ابوعبيدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لئے ۴۰۰دينار دے کر بھيجا اوراسے ان کے ہاں   ٹھہرنے کا حکم ديا تاکہ وہ ديکھ سکے کہ ان ديناروں   
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…دلائل النبوۃ، باب خروج النبی مع صا حبہ ابی بکر الصدیق ، ج۲، ص۴۷۶۔۴۷۷۔