ہوگیا۔اور ایک دن کا عمل یہ ہے کہ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا سے پردہ فرمایا تو عرب قبائل مرتد ہوگئے وہ کہنے لگے کہ’’ ہم زکوٰۃ نہیں دیں گے۔‘‘ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’اگر وہ زکوٰۃ کی ایک رسی بھی نہ دیں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا، میں نے (یعنی سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے) عرض کیا: ’’اے خلیفہ رسول! لوگوں سے نرمی برتیں ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے فرمایا:’’ تم جاہلیت میں بڑے سخت تھے،اب اسلام میں آکر اتنے نرم کیوں ہو گئے ہو؟ وحی ختم ہوچکی اور دین مکمل ہوچکا،اب کسی نرمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا، کیا میرے زندہ ہوتے ہوئے دین میں کمی کردی جائے گی؟‘‘(1)
پوری زندگی کے جملہ اعمال سے بہتر:
حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں کچھ لوگوں کے متعلق عرض کیا گیاکہ وہ آپ کو حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپرفضیلت دیتے ہیں ۔ یہ سن کر حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور ارشاد فرمایا:خدا کی قسم!سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ایک رات اورایک دن کی نیکی میری زندگی کے جملہ نیک اعمال سے کہیں بہتر ہے ، اگر کہو تو تمہیں سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ایک دن اور ایک رات بتلائوں ؟‘‘ عرض کیا گیا :’’امیر المومنین ! ضرور بتلائیے۔ فرمایا: ’’رات تو وہ ہے جب محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکۂ مکرمہ سے ہجرت کرکے رات کے وقت نکلے ۔سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی آپ کے ساتھ تھے، جو سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کبھی آگے چلتے اور کبھی پیچھے، کبھی دائیں کبھی بائیں ، رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا : ’’ابوبکر ! یہ کیا ہے،تم پہلے توکبھی اس طرح نہیں چلے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:’’مجھے جب خوف آتا ہے کہ کوئی دشمن آگے گھات لگائے نہ بیٹھاہو تو آپ کے آگے چلنے لگتا ہوں اورجب یہ خیال آتا ہے کوئی پیچھا کرنے والاپیچھے سے حملہ آور نہ ہو تو آپ کےپیچھے چلنے لگ جاتاہوں اور چونکہ امن نہیں اس لیے دائیں بائیں بھی چل رہا ہوں ۔‘‘حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات بھر اپنے پیروں کی انگلیوں پر چلتے رہے تاکہ قدموں کے نشان نہ ثابت ہوں جس کے سبب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدمین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جامع الاصول ،الکتاب السابع فی الغدر، الباب الرابع، الفرع الثانی فی فضائل الرجال علی الانفراد، ج۸، ص۴۵۸ ، حدیث: ۶۴۲۶۔