Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
414 - 831
اَصحابِ رسول سے عقیدت ومحبت
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عشق رسول کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام اصحاب سے بھی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔خصوصاً خلیفہرسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہ وہ آپ کے لیے مثالی شخصیت (آئیڈیل) تھے۔ چنانچہ،
صدیق اکبر سے عقیدت ومحبت
حیات صدیق کا ایک دن اورایک رات:
حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ایک بار حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر چھڑ گیاتوآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے روتے ہوئے فرمایا:’’میری یہ تمنا ہے کہ اے کاش ! میرے تمام اعمال صالحہ کے بدلے میں   مجھے سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ایک دن اورایک رات کا عمل دےدیا جائے، ان کا ایک رات کا عمل تو ہجرت کے موقع پر تھا جب وہ اللہ 
عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ غار کو چلے تھے، وہاں   پہنچنے پر سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جب تک میں   اندر نہ جائوں   آپ داخل نہ ہوں  ، اگر اس میں   کوئی نقصان دہ چیز ہوگی تو آپ سے پہلے مجھ تک پہنچے گی۔‘‘ تو وہ اندر گئے غار صاف کیا، غار میں   چاروں   طرف سوراخ تھے ، جنہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے تہبند کے ٹکڑے کرکے پُر کیا۔ دو سوراخ رہ گئے ان پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنا پائوں   رکھ دیا اور عرض کیا:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اندرتشریف لے آئیے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم داخل ہوئے اور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی گود میں   سر انور رکھ کر استراحت فرمانےلگے، سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو سوراخ میں   سے کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا۔مگر حضور نبیٔ کریم، رؤف رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نیند میں   خلل آجانے کے خوف سے انہوں   نے ذ را جنبش تک نہ کی، مگر آنسو ٹپک پڑے جو رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رخ انور کے بوسے لینے لگے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیدار ہوئے اور فرمایا: ’’ابوبکر! تمہیں   کیا ہوا ؟ ‘‘عرض کیا:’’کسی (سانپ)نےڈس لیا، آپ پر میرے ماں   باپ قربان!‘‘ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے متاثرہ جگہ پر لعاب دہن لگایا تو وہ بالکل ٹھیک