رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حجۃ الوداع کے موقع پر سنا ہے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ حج اور اس کے بعد حصر ہے۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضر ت سیدتنا زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سوا دیگر تمام ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو حج پر بھیج دیا اور ساتھ ہی حضرت سیدتنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بھیجا اورارشاد فرمایا: ’’اَنْ یَسِيْرَ اَحَدُھُمَا بَيْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَالْآخَرُ خَلْفَھُنَّ وَلَا یُسَایِرُھُنَّ اَحَدٌیعنی تم دونوں میں سے ایک شخص آگے چلے اور دوسرا پیچھے۔دونوں ایک ساتھ چلنے کی کوشش نہ کریں ۔‘‘ اور طواف کے متعلق یہ حکم جاری فرمایا: ’’اِذَا طُفْنَ بِالْبَيْتِ لَا يَطُوْفُ مَعَهُنَّ اَحَدٌ اِلَّا النِّسَاءُ یعنی پہلے مردوں سے حرم کو خالی کردیا جائے اور صرف خواتین ہی ازواج مطہرات کے ساتھ طواف کریں ۔‘‘(1)
حدیث مبارکہ کی شرح :
حضرت علامہ محب الدین طبری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یہ بھی مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے عہد میں ہر سال لوگوں کے ساتھ خود حج فرمایاکرتے تھے۔ اس لیے ممکن ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ازواج مطہرات کے حفاظتی امور کی ذمہ داری اس لیے دی ہو کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر مصروفیات کے باعث یہ فریضہ بذات خود انجام نہیں دے سکتے تھے۔صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج کو اپنے دور کے آخری حج میں شرکت کی اجازت دی، اور ان کے ساتھ حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھیجا۔(2)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ،ج۱،ص۳۴۲۔
2…بخاری، کتاب جزاء الصید، باب حج النساء، ج۱، ص۶۱۳، حدیث:۱۸۶۰، ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۴۲۔