Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
411 - 831
 مال کی وصولی کے لیے بار بار آپ کو تنگ کرناشروع کردیا۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معلوم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے گستاخی کے سبب اسے تیس کوڑے لگوائے۔‘‘(1)
اُمہات المؤمنین کی خیر خواہی:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عادت مبارکہ تھی کہ اپنے گھر سے نکل کر جب بھی اُمہات المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے گھروں   کے قریب سے گزرتے ہوئے تو آتے جاتےاُنہیں   سلام کرتے، ایک بار واپسی پر آپ نے دیکھا کہ ایک شخص ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے دروازے کے باہر بیٹھا ہوا ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا: ’’تم یہاں   کیوں   بیٹھے ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا: ’’ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے میرا کچھ قرض دینا ہے،وہی لینے کے لیے یہاں   بیٹھا ہوں  ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گھر کے اندر تشریف لے گئے اور سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: ’’کیا آپ کی ضروریات کے لیے سالانہ چھ ہزار درہم کافی نہیں   ہیں  ؟‘‘ انہوں   نے عرض کیا: ’’کیوں   نہیں  ، لیکن مجھ پر چند اور حقوق بھی ہیں  ، میں   نے اپنے سرتاج ابوالقاسم محمد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا ہے کہ اگر کسی پر کچھ قرض ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی کوشش میں   لگا رہے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ساتھ ایک محافظ فرشتہ مقرر فرمادیتا ہے۔ لہٰذا میں   چاہتی ہوں   کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے وہ محافظ فرشتہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے۔‘‘(2)
اَزواج مطہرات کے حج کے لیے خصوصی انتظام:
حضرت سیِّدُنا منذر بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ازواج نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے حج کی اجازت طلب کی۔ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انکار فرمادیا۔ازواج مطہرات نے اصرار کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ آئندہ سال آپ کو اجازت ہوگی اور یہ میری ذاتی رائے نہیں  ۔‘‘ حضرت سیدتنا زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے عرض کیا: ’’میں   نے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب الحدود،باب فی التعزیرکم ھو،وکم یبلغ بہ،ج۶، ص۵۶۷، الحدیث:۲۔
2…معجم اوسط، من اسمہ علی، ج۳، ص۲۵، حدیث: ۳۷۵۹۔