Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
410 - 831
كَانَ اَحَبَّ النَّاسِ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟یعنی خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک لوگوں   میں   سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟‘‘ فرمایا: ’’اَبُوْ بَكْرٍ یعنی میرے والد گرامی حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۔‘‘ میں   نے عرض کیا: ’’ثُمَّ مَنْ؟ یعنی ان کے بعد کون زیادہ محبوب ہے؟‘‘ فرمایا: ’’ثُمَّ عُمَر میرے والد گرامی کے بعد حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے زیادہ محبوب ہیں  ۔‘‘(1)
اُمھات المؤمنین کی نگہبانی
اُمہات المومنین کا حج:
حضرت سیِّدُنا ابن ابی نجیح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ الَّذِيْ يُحَافِظُ عَلٰى اَزْوَاجِيْ بَعْدِيْ فَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّیعنی جو شخص میرے بعد میری ازواج کی حفاظت کرے گا، وہ سچااور نیکو کار ہوگا۔‘‘ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے دورِ خلافت میں  لوگوں   سے فرمایا: ’’ مَنْ يَحُجُّ مَعَ اُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِيْنَ؟یعنی امہات المؤمنین کے ساتھ کون حج کی سعادت حاصل کرے گا؟‘‘ ( یعنی انہیں   بحفاظت حج پر لے جائے اور واپس بھی لائے۔) حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’اَنَایعنی حضور اس سعادت کے لیے میں   اپنے آپ کو پیش کرتاہوں  ۔‘‘ چنانچہ امیر المؤمنین کے حکم پر انہوں   نے امہات المؤمنین کی خیر خواہی کی سعادت حاصل کی اور انہیں   حج کروایا۔اور حج کے لیے ایسا محفوظ راستہ اختیار کیا جس میں   گہری گھاٹیاں   تھیں   اور وہاں   سے عام لوگوں   کی آمدورفت نہ تھی، نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پردے کی غرض سے اونٹوں   کے کجاووں   پر سبز چادریں   بھی ڈلوائیں  ۔(2)
اُمّ المومنین کی گستاخی کرنے والے کو سزا:
حضرت سیِّدُنا ابو وائل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ’’ ایک شخص نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے قرض واپس لینا تھا۔ اس نے آکر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ساتھ جھگڑا کیا اور نامناسب رویہ اختیار کیا نیز
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… مسند ابی یعلی،  مسند عائشۃ، ج۴، ص۲۳۷،حدیث:۴۷۸۱۔
2…تاریخ ابن عساکر، ج۳۵، ص۲۸۶، ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۴۲۔