ہیں ۔ البتہ کئی لوگوں کی کنیت ان دونوں سے مختلف ہوتی ہے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت بھی اسی قبیل سے ہے یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت آپ کی اولاد میں سے کسی بیٹے یا بیٹی وغیرہ کے نام پر نہیں ہے اور نہ ہی کسی خاص وصف کی وجہ سے ہے،بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ کنیت بارگاہِ رسالت سے عطا ہوئی ہے۔ چنانچہ،
فاروقِ اعظم کو بارگاہِ رسالت سے کنیت عطا ہوئی:
(1)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہدو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بدر کے دن اعلان فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی عباس سے ملے تو اُن سے اعراض کرے کیونکہ انہیں ہم سے جنگ کرنے کے لیے زبردستی لایا گیا ہے۔‘‘حضرت سیِّدُنا ابو حذیفہ بن عتبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ سنا تو فرط جذبات سے کہنے لگےکہ ’’ہم اپنے آباء، بھائیوں اور رشتہ داروں کو تو قتل کریں اور عباس کو چھوڑ دیں ہم ضرور اسے قتل کریں گے۔‘‘رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک جب یہ بات پہنچی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا: ’’یَا اَبَا حَفْصٍ! یُضْرَبُ وَجْهُ عَمِّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ بِالسَّیْفِ؟ یعنی اے ابو حفص!کیا رسول اللہ کے چچا پر تلواراٹھائی جائے گی؟‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جلال میں ارشاد فرمایا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے حکم ارشاد فرمائیے میں ابو حذیفہ کی گردن اڑادوں گا۔‘‘بہرحال بعد میں حضرت سیِّدُنا ابو حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس بات پر بہت شرمندہ ہوئے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھےکہ ’’بدر کے دن جو بات میں نے کی تھی اس کے سبب میں خوف زدہ رہتا ہوں اور خواہش کرتا ہوں کہ کاش! مجھے شہادت نصیب ہوجائے اور میری شہادت اس بات کا کفارہ ہوجائے ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ خواہش پوری ہوگئی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جنگِ یمامہ میں شہید ہو گئے۔
جنگِ بدر کے دن حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اسی کنیت ’’ابو حفص ‘‘ کے ساتھ پکارااور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خود ارشاد فرمایا: ’’اِنَّہُ لَاَوَّلُ یَوْمٍ كَنَّانِیْ فِيْهِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ بِاَبِیْ حَفْصٍ یعنی یہ وہ پہلا دن تھا جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے