لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تمام ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ یعنی جن سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نکاح فرمایا،چاہے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری سے پہلے ان کاانتقال ہوا ہویا سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے بعدانھوں نے وفات پائی ہو،یہ سب کی سب امت کی مائیں ہیں اورہر امتی کے لیے اس کی حقیقی ماں سے بڑھ کر لائق تعظیم وواجب الاحترام ہیں ۔ (1)
یہی وجہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین اور جناب سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعد تمام امت میں افضل ہونے کے باوجود امہات المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی بے حد تعظیم واکرام کیا کرتے تھے۔ نیز گاہے بگاہے ان کی مالی خدمت بھی کیا کرتے تھے ۔چنانچہ ،
فاروقِ اعظم نے اُمّ المؤمنین کی خیر خواہی کی:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُمّ المؤمنين حضرت سيدتنازينب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس کچھ مال بطور ہدیہ بھيجا تو انہوں نے اسی وقت وہ سارا مال رشتہ داروں اور يتيموں ميں تقسيم کر ديا اور یوں دعا مانگی: ’’اے اللہ
عَزَّ وَجَلَّ! آئندہ سال امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عطيہ مجھ تک نہ پہنچے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی دعا قبول ہوئی اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کے بعد اَزواج مطہرات رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ميں سے سب سے پہلے وصال فرمايا۔‘‘ (2)
اُمّ المؤمنین کے نزدیک فاروقِ اعظم کا مقام:
ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نزدیک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعد تمام لوگوں میں سب سے زیادہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ محبوب ہیں ۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن شقیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسےر وایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا : ’’مَنْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح زرقانی علی المواھب ،المقصد الثانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاھرات،ج۴،ص۳۵۶۔
2…طبقات کبری ، زینب بنت جحش،ج۸،ص۸۷۔