Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
408 - 831
اُمہات المؤمنین سے عقیدت ومحبت
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے دو عالم کے مالِک و مختار،مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا: ’’اَلْجَنَّةُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّهَاتِ یعنی جنت ماؤں   کے قدموں   کے نیچے ہے۔‘‘(1)
حضرت سیِّدُنا بہز بن حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں   کہ میں   نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا: ’’يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَنْ اَبَرُّ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! بھلائی کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اُمُّكَ ثُمَّ اُمُّكَ ثُمَّ اُمُّكَ ثُمَّ اَبُوْكَ یعنی تمہاری ماں  ، پھر تمہاری ماں  ، پھر تمہاری ماں  ،پھر تمہارے والد۔‘‘(2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ تمام فضائل وحقوق ایک عام مؤمن کی والدہ کے لیے ہیں  ، ذرا غور تو کیجئے کہ سرورعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت کے شرف کی وجہ سے اُمہات المؤمنین کے لقب سے سرفراز ہوئیں  ۔قرآن پاک میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: ( اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ-) (پ۲۱، الاحزاب:۶)ترجمۂ کنزالایمان: ’’یہ نبی مسلمانوں   کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں   ان کی مائیں   ہیں  ۔‘‘ 
ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  جن کو تمام دنیا کی عورتوں   میں   یہ خصوصی شرف ملا ہے کہ انہیں   حرم نبی میں   داخل ہونے کا شرف نصیب ہوا اور وہ دن رات محبوب خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كي محبت اور ان کی خدمت و صحبت کے انوار و برکات سے سرفراز ہوتی رہیں   اور جن کی فضیلت و عظمت کا خطبہ پڑھتے ہوئے قرآن عظیم نے قیامت تک کے لئے یہ اعلان فرما دیا: (یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ) (پ۲۲، الاحزاب:۳۲)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اے نبی کی بیبیو ! تم اور عورتوں   کی طرح نہیں   ہو۔‘‘ یقیناً ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  کا مقام ومرتبہ اور ان کی تعظیم وتکریم عام ماؤں   سے کہیں   زیادہ ہے۔ علامہ زرقانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…فیض القدیر، حرف الجیم، فصل فی المحلی۔۔۔الخ، ج۳، ص۴۷۷، تحت الحدیث:۳۶۴۲۔
2…مسلم، کتاب البر والصلۃ۔۔۔الخ، باب بر الوالدین۔۔۔الخ، ص۱۳۷۸ ، حدیث:۱۔