Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
406 - 831
 امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس جب بھی عراق سے مال جزیہ یا خمس آتا آپ بنی ہاشم کے کسی غیر شادی شدہ شخص کی شادی کر دیتے اور جس کے پاس خادم نہ ہوتا اسے خادم عطا فرمادیتے۔‘‘(1)
تمہارے آستانے سے کوئی لوٹا نہیں   خالی:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کیا شان ہے ساداتِ کرام، ان کے نانا جان صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اہل بیت کرام کی! اس سخی گھرانے کے ساتھ جو بھی حسنِ سلوک کرتا ہے وہ محروم نہیں   رہتا بلکہ اس پر انعام واکرام کی ایسی بارش ہوتی ہے کہ محتاج اور غمگین لوگوں  کے دلوں   کی مُرجھائی کَلیاں   کھِل اٹھتی ہیں   ،گردشِ ایام کی زد میں   آکر سنسان وویران ہوجانے والے باغات میں   بہار آجاتی ہے۔جس نے بھی ان مُبَارَک ہستیوں   سے حُسنِ سلوک کیا وہ بے شمار پریشانیوں   سے نجات پاکر شاداں   وفرحاں   ہوگیا۔ اور کیوں   نہ ہو کہ کریموں   سے تعلق رکھنے والے پر بھی ضرور کرم کیا جاتاہے ۔اہل بیت کرام چمنستانِ کرم کے مہکتے پھول ہیں   ان کی خوشبو سے عالَمِ اسلام مہک رہا ہے، ان ہی درخشاں   ستاروں   کی روشنی سے نہ جانے کتنے بھولے بھٹکے مسافروں   کو نشانِ منزل ملا۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ،عظیم البرکت، پروانۂ شمعِ رسالت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن ، اہل بیتِ اطہار کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں   :
کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی۔۔۔ زہراء ہے کلی جس میں   حسین اور حسن پھول
تیری نسل پاک میں   ہے بچہ بچہ نور کا۔۔۔ تو ہے عین نور تیرا سب گھرانا نور کا
یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   اِن نُفُوسِ قُدْسِیَّہ کے صدقے دین ودنیا کی بھلائیاں   عطا فرما،ان ساداتِ کرام کا باادب بنا، بے ادبوں   سے ہم سب کو محفوظ فرما ۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   ان کی غلامی میں   استقامت عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرما۔
   آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
صحابہ کا گدا ہوں   اور اہلِ بیت کا خادم
یہ سب ہے آپ کی نظرِ عنایت یا رسول اللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ریاض النضرۃ، ج۱، ص۳۴۰،کتاب الاموال لابی عبید،کتاب الخمس و احکامہ،با ب سھم ذی القربی۔۔۔الخ،ص۳۴۵،الرقم:۸۵۵۔