Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
405 - 831
سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چچا حضرت سیِّدُنا عباس بن عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وسیلے سے یہ دعا مانگتے (1) :’’اللَّهُمَّ اِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! بے شک ہم پہلے تیری بارگاہ میں   اپنے حضور نبی ٔ پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وسیلہ پیش کیا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش نازل فرماتا تھا اور اب ہم اپنے رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا کے وسیلے سے دعا مانگتے ہیں   ہمیں   بارش عطا فرما۔‘‘راوی کہتے ہیں   کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہیہ دعا فرماتے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ بارش نازل فرمادیتا۔‘‘(2)
رسول اللہ کے خاندان سے ابتداء کی جائے:
حضرت سیِّدُنا محمد بن عجلان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب رجسٹر بنایا تو اپنے اصحاب سے مشورہ لیتے ہوئے فرمایا: ’’بِمَنْ نَبْدَاْ؟یعنی سب سے پہلے کس سے ابتداء کی جائے؟‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اصحاب نے عرض کیا:’’بِنَفْسِكَ فَابْدَاْیعنی حضور! وظائف کی تقرری کا آغاز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنی ذات سے کریں   کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامام ہیں  ۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’ لَا اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِمَامُنَا فَبِرَهْطِهٖ نَبْدَاُبِاْلَاقْرَبِ فَالْاَقْرَبِنہیں  ! رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم امام ہیں  ۔ اس لیے سب سے پہلے ان کے خاندان سے آغاز کیا جاتا ہے،اور ان کے بعد جو درجہ بدرجہ رشتہ دار ہوں   گے۔‘‘(3)
بنی ہاشم سے عقیدت ومحبت
 آپ کی عقیدت اور ان کے حقوق کی نگہداشت:
حضرت سیِّدُنا امام زہری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے ،فرماتے ہیں  : ’’كَانَ عُمَرُ اِذَا اَتَاهُ مَالُ الْعِرَاقِ اَوْ خُمْسُ الْعِرَاقِ، وَلَمْ يَدْعُ رَجُلاً مِّنْ بَنِیْ هَاشِمٍ عَزْباً اِلَّا زَوَّجَهُ، وَلَا رَجُلاً لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ اِلَّا اَخْدَمَهُ یعنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… وسیلے سے متعلق دیگر روایات وتفصیلی معلومات کے لیے اسی کتاب کا باب ’’فاروقِ اعظم اور حقوق العباد‘‘ ص ۱۲۴ کا مطالعہ کیجئے
2…بخاری، کتاب الاستسقاء، باب سوال الناس۔۔۔الخ، ج۱، ص۳۴۶، حدیث:۱۰۱۰۔
3…کتاب الاموال لابی عبید،کتاب مخارج الفی۔۔۔الخ،تدوین عمر الدیوان ۔۔۔ الخ، ص۲۳۶، الرقم: ۵۴۹۔