اسلامی کا خزینہ تھا اوریہ بھی معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اپنے والد کے اسلام سے حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام کو محبوب تر سمجھنا صرف اسی بنیاد پر ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیک سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رشتہ دار سب سے زیادہ محترم تھے۔
سیِّدُنا عباس کا پرنالہ دوبارہ لگادیا:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ میرے والد گرامی حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مکان کا ایک پرنالہ تھا جو اس راستے میں پڑتا تھا جہاں سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہگزرتے تھے۔ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجمعہ کے دن اُجلے کپڑے پہنے مسجد جارہے تھے۔ اور حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاں دو چوزے ذبح کیے گئے تھے۔جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُس پرنالے کے بالکل نیچے پہنچے تو خون سے ملا ہوا پانی آپ پرآ گرا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسی وقت پرنالہ اکھاڑنےکا حکم دے دیا۔آپ کے حکم کی تعمیل ہوئی اور پرنالہ اکھاڑ دیا گیا۔ پھر آپ واپس آئے، کپڑے تبدیل کیے اور نمازجمعہ پڑھائی۔ حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہآپ کے پاس آئے اور عرض کیا: ’’وَاللہِ اِنَّهُ لَمَوْضَعُ الَّذِيْ وَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ پرنالہ اس جگہ خود خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لگایا تھا۔‘‘فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے کہا: ’’اَنَا اَعْزِمُ عَلَيْكَ لِمَا صَعِدْتَّ عَلٰى ظَهْرِيْ حَتّٰى تَضَعَهُ فِيْ الْمَوْضَعِ الَّذِيْ وَضَعَهُ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَیعنی میں آپ کو خدا کی قسم دلاتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیں ، آپ میری پیٹھ پر کھڑے ہوں اور جہاں سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پرنالہ لگایا تھا وہیں دوبارہ لگائیں ۔‘‘حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حکم کی تعمیل کی اور پرنالہ دوبارہ وہیں لگادیا۔(1)
حضرت سیِّدُنا عباس کے وسیلے سے بارش کی دعا فرماتے:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب قحط پڑتا تو امیر المؤمنین حضرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند امام احمد ،حدیث العباس۔۔۔الخ، ج۱، ص۴۴۹، حدیث:۱۷۹۰۔