عَقْدٍ وَلَا عَهْدٍ فَدَعْنِيْ اَضْرِبُ عُنَقَهُیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ابو سفیان کسی صلح اور معاہدہ کے بغیر ہمارے قبضے میں آگیا ہے، اب آپ اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ’’يَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّيْ قَدْ اَجَرْتُهُیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں نے انہیں امان دے دی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سر انور پکڑ لیا اور کہا: ’’آج کی رات میرے سوا کوئی شخص سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سرگوشی نہیں کرے گا۔ ‘‘جب سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ابوسفیان کے بار ے میں زیادہ کلام کیا تو میں نے کہا: ’’مَهْلاً يَا عُمَرُ وَاللہِ لَوْ كَانَ مِنْ رِجَالِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ مَا قُلْتَ هٰذَاوَلٰكِنَّكَ قَدْ عَرَفْتَ اَنَّهُ مِنْ رِجَالِ بَنِيْ عَبْدِ مُنَافٍیعنی اے عمر ! بس کیجئے۔ خدا کی قسم ! اگر عدی بن کعب کے قبیلہ سے کوئی شخص ہوتا ( یعنی آپ کے قبیلہ سے ہوتا) تو آپ کبھی یہ باتیں نہ کرتے۔آپ یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ ابو سفیان بنی عبدالمناف سے ہیں ۔‘‘ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے غیرت ایمانی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا: ’’مَهْلاً يَا عَبَّاسُ فَوَاللہِ لَاِسْلَامُكَ يَوْمَ اَسْلَمْتَ كَانَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ اِسْلَامِ الْخَطَّابِ لَوْ اَسْلَمَ وَمَا بِيْ اِلَّا اَنِّيْ قَدْ عَرَفْتُ اَنَّ اِسْلَامَكَ كَانَ اَحَبُّ اِلَىَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اِسْلَامِ الْخَطَّابِ یعنی اے عباس ! بس کریں ۔ خدا کی قسم! جس روز آپ اسلام لائے اس دن آپ کا اسلام قبول کرنا میرے نزدیک میرے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ محبو ب تھا اگر وہ اسلام قبول کرلیتا اور یہ پسندیدگی فقط مجھ تک نہیں ہے بلکہ میں جانتاہوں کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی میرے والد خطاب کے اسلام لانے سے آپ کا اسلام قبول کرنا زیادہ محبوب تھا۔‘‘ بعد ازاں حضرت سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔(1)
رسول اللہ کے رشتہ دار زیادہ محترم تھے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر دشمن کے لیے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تََعالٰی عَنْہ کی ذات ننگی تلوار تھی آپ کا سینہ غیرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح معانی الآثار، کتاب الحجۃ، باب فی فتح رسول اللہ ۔۔۔الخ، ج۳، ص۲۴۴، حدیث:۵۳۲۷ مختصرا۔