Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
402 - 831
 ہیں  ۔‘‘بہرحال حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ ابو سفیان کی آواز سن کر میں   نے باآواز بلند کہا: ’’اوابو حنظلہ ۔‘‘ابو سفیان میری آواز پہچان کر بولے:’’ ابوالفضل تم یہاں  ؟‘‘ (ابو الفضل حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی کنیت ہے)میں   نے کہا:’’ جی ہاں  !میں   ہوں  ۔‘‘ وہ کہنے لگا: ’’مَا لَكَ؟ فِدَاكَ اَبِيْ وَاُمِّيْیعنی کیا بات ہے؟ آپ پرمیرے ماں   باپ قربان۔‘‘ میں   نے کہا :’’وَيْحَكَ يَا اَبَا سُفْيَانَ! هٰذَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ النَّاسِ یعنی اےابوسفیان! آپ پر افسوس ہے۔ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عظیم لشکر لے کر آئے ہیں  ۔ خداکی قسم! کل کی صبح قریش کے لیے بڑی بھیانک ہے۔‘‘ وہ کہنے لگے:’’ فَمَا هٰذِهِ الْحِيْلَةُ فِدَاكَ اَبِيْ وَاُمِّيْیعنی آپ پر میرے ماں   باپ قربان۔اب ہمیں   کیا کرنا چاہیے؟‘‘ میں   نے کہا: ’’خدا کی قسم ! اگر آپ ان کے قابو میں   آگئے تو ضرور آپ کی گردن اڑ جائے گی۔ میرے پیچھے اس خچر پر بیٹھ جائیے، میں   آپ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس لے چلتا ہوں   اور آپ کے لیے امن طلب کروں   گا۔‘‘حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ابوسفیان میرے پیچھے سوار ہوگئے ۔میں   ابوسفیان کو لے کر سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لشکر میں   پہنچ گیا۔ میں   جس خیمہ کے آگے سے گزرتا مسلمان آپس میں   چہ مگوئیاں   کرتے کہ یہ کون ہے؟ مگر جب وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دراز گوش پر مجھے بیٹھا دیکھتے تو مطمئن ہوجاتے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے خچر پر آپ کے چچا جارہے ہیں  ۔ جب ہم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے خیمے پر سے گزرے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اٹھ کر کہا:’’ یہ کون ہے؟‘‘ اور جب انہوں   نے سواری کے پیچھے ابوسفیان کو دیکھا تو پکار اُٹھے: ’’اَبُوْ سُفْيَان عَدُوُّ اللہِ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِيْ اَمْكَنَ مِنْكَ بِغَيْرِ عَقْدٍ وَلَا عَهْدٍیعنی او دشمن خدا ابو سفیان!   اللہ
 عَزَّ وَجَلَّ کی حمد ہے جس نے بغیر کسی صلح اور معاہدے کے تجھے میرے سامنے کردیا۔‘‘ ساتھ ہی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی طرف بھاگے۔ میں   نے بھی خچر کو بھگایا اور سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے آنے سے قبل ابو سفیان کو حضور نبی ٔکریم، رَءُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچا دیا۔ساتھ ہی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی پہنچ گئے اور کہنے لگے: ’’يَا رَسُوْلَ اللہِ هٰذَا اَبُوْ سُفْيَان قَدْ اَمْكَنَ اللہُ مِنْهُ بِغَيْرِ