Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
401 - 831
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ سے باہر رات کے وقت ’’مَرُّالظَّھْرَان‘‘مقام پر اترے۔ میں   نے دل میں  کہا: ’’وَا صَبَاحَ قُرَيْشٍ! وَاللہِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَنْوَةً قَبْلَ اَنْ يَاْتُوْهُ فَيَسْتَاْمَنُوْهُ اَنَّہُ لَهَلَاكُ قُرَيْشٍ اِلٰى آخِرِ الدَّهْرِیعنی ہائے قریش کی صبح! (یعنی کل قریش کی صبح کتنی بھیانک ہوگی) خدا کی قسم! اگر تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بزور شمشیر مکہ مکرمہ میں   داخل ہوئے اور قریش نے بڑھ کر امن کی درخواست نہ کی تو وہ قیامت تک کے لیے تباہ ہوجائیں   گے۔‘‘میں   شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سفید خچر پر بیٹھ کر باہر نکلا اور ایک پیلو کے درخت تک ہی پہنچا تھا کہ آگے سے حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے ملاقات ہوگئی۔ میں   نے کہا:’’ اے علی ! مکہ مکرمہ سے آنے والا کوئی لکڑہارا یا کوئی دودھ والا یا کوئی حاجت مند شخص مل جائے تو اسے حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد کی اطلاع دے دی جائے تاکہ وہ مکے والوں   سے جا کر کہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بزورِ شمشیر مکہ مکرمہ داخل ہونے سے قبل ہی وہ بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہو کر امن کے خواستگار ہوجائیں  ۔‘‘میں   اسی تلاش میں   تھا کہ مجھے ابوسفیان کی آواز آئی جو اپنے ساتھی بدیل بن وقار سے محو گفتگو تھے۔ا بوسفیان ان سے کہہ رہے تھے :’’مَا رَاَيْتُ كَاللَّيْلَةِ نِيرَانًا قَطُّ وَلَا عَسْكَراًیعنی آج رات جتنی آگ اور جتنا بڑا لشکر نظر آیا ہے پہلے تو کبھی نظر نہیں   ۔‘‘(کیونکہ حضور نبی ٔکریم، رَءُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لشکر میں   اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لیے قطار میں   خیمے لگوائے اور ان میں   آتش روشن کروائے تھے۔)بدیل نے جواب دیا:’’ خدا کی قسم! یہ بنو خزیمہ ہیں   جو جنگ کے ارادے سےیہاں   آئے ہیں  ۔‘‘ ابوسفیان نے انہیں   ٹوکا کہ ’’خزاعہ کا اتنا لشکر اور اتنی آگ نہیں   ہوسکتی۔‘‘
’’بنو خزاعہ‘‘ ایک عرب قبیلہ ہے جنہوں   نے حضرتِ سیِّدُناابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد سے مکہ مکرمہ کی سرداری چھین لی تھی، پھر دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے جدا مجد حضرت سیِّدُنا ہاشم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے تمام قریش کو اکٹھا کیا اور بنو خزاعہ سے جنگ کرکے انہیں   مکہ مکرمہ سے مار بھگایا۔ آج فتح مکہ کی رات چوں   کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اچانک لشکر لے کر آئے تھے، اور اہل مکہ کو اس کی کوئی پیشگی اطلاع نہ تھی اس لیے وہ سمجھے یہ شاید بنو خزاعہ پھر مکہ پر قبضہ کرنے آگئے