سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا ہیں ۔‘‘(1)
حضرت سیِّدُنا عباس کی سواری کی لگام پکڑ کرچلتے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن شہاب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :’’اِنَّ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ زَمَنَ وِلَايَتِهِمَا كَانَ لَا يَلْقَاهُ وَاحِدٌ مِّنْهُمَا رَاكِبًا اِلَّا نَزَلَ وَقَادَ دَابَّتَهُ وَمَشٰى مَعَهُ حَتّٰى يَبْلُغَ مَنْزِلَهُ اَوْ مَجْلِسَهُ فَيُفَارِقُهُیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں اپنے اپنے دورِ خلافت میں حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سوار ہوکر نہیں ملا کرتے تھے، بلکہ اپنی سواری سے اتر کر ان کی سواری کی لگام پکڑ لیتے اور ان کے ساتھ ساتھ چلتے یہاں تک کہ جب وہ اپنے گھر یا اپنی مجلس میں پہنچ جاتے تو یہ دونوں الگ ہوجاتے۔‘‘ (2)
حضرت سیِّدُنا عباس کو قبول اسلام کی درخواست:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قبول اسلام کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اَسْلِمْ فَوَاللّٰهِ اِنْ تُسْلِمْ اَحَبُّ اِليَّ مِنْ اَنْ يُسْلِمَ الْخَطَّابُ وَمَا ذَاكَ اِلَّالِاَ نَّهُ كَانَ اَحَبَّ اِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيه وَسَلَّم یعنی آپ اسلام قبول کرلیجئے کیونکہ آپ کا اسلام قبول کرنا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام قبول کرنے سے بھی زیادہ محبوب ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ ان کے نزدیک بھی آپ کا اسلام قبول کرنا بہت پسند یدہ ہے۔‘‘(3)
فاروقِ اعظم کا غیرت ایمانی سے بھرپور جواب:
حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کا موقع آیا تو حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاستیعاب،عباس بن عبد المطلب، ج۲، ص۳۶۰۔
2…الصواعق المحرقۃ، ص۱۷۸۔
3…مسند بزار، مسند ابن عباس،ج۱۱،ص۱۸۲،حدیث:۴۹۲۴۔