ہیں ۔ ’’انسانی زندگی کی مدت ‘‘کو بھی’’ عمر‘‘ کہتے ہیں یعنی ’’جسم کی آبادی کا زمانہ‘‘۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عہدِ خلافت چونکہ اِسلام کی آبادی کا زمانہ ہے اِس اعتبار سے بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اِسم بامسمی ہوئے۔(1)
آسمانوں ، انجیل، تورات اور جنت میں آپ کا نام:
مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کانام آسمانوں میں ’’فاروق‘‘ انجیل میں ’’کافی‘‘ تورات میں ’’مَنْطَقُ الْحَق‘‘ اور جنت میں ’’سراج‘‘ ہے۔(2)
بارگاہِ رسالت سے عطا کردہ نام:
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں : ’’سَمَّى رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم عُمَرَ الْفَاُروْقَ یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام ’’فاروق‘‘ رکھا۔ (3)
فاروقِ اعظم کی کنیت
فاروقِ اعظم کی کنیت:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت ’’ابو حفص‘‘ ہے اگرچہ آپ کی اولاد میں سے کسی کا نام’’ حفص‘‘ نہیں ہے۔(4)
کنیت کی وجوہات
کنیت رکھنا سنت ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کنیت رکھنا سنت مبارکہ ہے اور ابتدائے اسلام سے یہ سلسلہ صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور اسلاف کرام میں چلا آرہا ہےاور آج بھی عشاق اس سنت کو زندہ کرتے ہوئے اپنے ناموں کے ساتھ کنیت رکھتے ہیں ۔ کنیت عموماً بیٹے یا بیٹی وغیرہ کے نام پر رکھی جاتی ہے، بعض لوگ کسی خاص وصف کے ساتھ بھی کنیت رکھتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مرآۃ المناجیح، ج۸، ص۳۶۰، ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۲۷۲۔
2…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۲۷۳۔
3…تھذیب الاسماء ، عمر بن الخطاب، ج۲، ص۳۲۵۔
4…مستدرک حاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر مناقب ابی حذیفہ، ج۴، ص۲۳۹، حدیث:۵۰۴۲ ملتقطا۔