دل سے جوبات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے
پر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہواور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطافرما۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
خاتون جنت سیدہ فاطمہ سے عقیدت ومحبت
تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خاتون جنت حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ارشاد فرمایا: ’’يَا بِنْتَ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، وَاللہِ مَا مِنَ الْخَلْقِ اَحَدٌ اَحَبَّ اِلَيْنَا مِنْ اَبِيك ، وَمَا مِنْ اَحَدٍ اَحَبُّ اِلَيْنَا بَعْدَ اَبِيك مِنْكیعنی اے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہزادی! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! تمام مخلوق میں کوئی ایسا نہیں جو ہمیں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے والد گرامی صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ محبوب ہو اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے والد گرامی صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے زیادہ ہمیں کوئی محبوب نہیں ۔‘‘(1)
رسول اللہ کے چچا سے عقیدت ومحبت
حضرت عباس کے قریب سے سوار ہوکرنہ گزرتے:
حضرت سیِّدُنا ابن ابی زناد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَہَّاب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ :’’اِنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمْ يَمُرُّ بِعُمَرَ وَلَا بِعُثْمَانَ وَهُمَا رَاكِبَانِ اِلَّا نَزَلَا حَتّٰى يَجُوْزَ الْعَبَّاسُ اِجْلَالًالَهُ وَيَقُوْلَانِ عَمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَیعنی حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قریب سے گزرتے اور وہ سوار ہوتے تو دونوں اِن کی تعظیم کے لیے ان کے گزرنے تک سواری سے اتر جاتے اور فرماتے کہ یہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المغازی، باب ما جاء فی خلافۃ ابی بکر، ج۸، ص۵۷۲، حدیث:۴ مختصرا۔