مصیبت پر صبر کرے ۔
(6)…اورجو شخص دنیوی زندگی (میں طوالت) کا خواہش مند ہو توا سے چاہیےکہ مصائب کے لئے تیار ہوجائے۔
(7)…جو شخص عز ت ووقاربرقرار رکھنا چاہے تووہ رِیاکاری سے بچے۔
(8)…جو شخص قائد ورہنما(یعنی سردار)بنناچاہے تو اسے چاہے کہ ہر حال میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ چاہے اسے کتنی ہی دشواری کاسامنا کرنا پڑے (یعنی سرداری کے لئے ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی مشقت برداشت کرناضروری ہے۔ بغیرمشقت کے انسان کو بلند رتبہ حاصل نہیں ہوتا)۔
(9)…جس بات سے تیرا تعلق نہ ہو خواہ مخواہ اس کے بارے میں سوال نہ کر۔
(10)…بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت جان اورفرصت کے لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھا ، ورنہ غم وپریشانی کا سامنا ہو گا ۔
(11)…استقامت آدھی کامیابی ہے، جیسا کہ غم آدھا بڑھا پا ۔
(12)…جو چیز تیرے دل میں کھٹکے اسے چھوڑ دے کیونکہ اس کو چھوڑ دینے ہی میں تیری سلامتی ہے ۔ (1)
سُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے بزرگان دین نے ہماری رہنمائی کے لئے کیسے کیسے نصیحت آموز کلمات ارشاد فرمائے، مذکورہ بالا کلمات ایسے جامع اورحکمت آموز ہیں کہ اگر کوئی شخص ان پر عمل کرلے تو وہ دارین کی سعادتوں سے مالا مال ہوجائے، اسے دین ودنیا کے کسی معاملے میں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ان بارہ کلمات میں حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ہمیں زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ بتا دیاہے کہ اگر اس طرح زندگی گزارو گے تو بہت جلد ترقی وکامیابی کی دولت نصیب ہوگی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا نصیب ہوگی۔
یہ حضرات خود علم وعمل کے پیکر ہوا کرتے تھے اورجو شخص مخلص وباعمل ہو اس کے سینے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ علم وحکمت کے چشمے رواں فرمادیتاہے، پھر اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات کتنے ہی مُردہ دلوں کو زندہ کردیتے ہیں ، کتنوں کی بگڑی بن جاتی ہے ۔ جب یہ لوگ کسی کو نصیحت کرتے ہیں تو خیر خواہی کی نیت سے کرتے ہیں اورجو بات دل کی گہرائیوں سے نکلے وہ مؤثر کیوں نہ ہو۔ حقیقۃً وہی بات اثر کرتی ہے جو دل سے نکلتی ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…عیون الحکایات، ج۱، ص۲۸۸۔