تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے یہ بتانے کے لیے کیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر المؤمنین ہونے کے باوجود جو میرے ساتھ کام کیا وہ دراصل رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قرابت داری کی وجہ سے کیا، یہی وجہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کے اکرام میں مزید اضافہ فرمایا اور آپ کو اپنی چادر پر بٹھایا۔‘‘(1)
فرامین مولاعلی بزبان فاروقِ اعظم:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہارشاد فرماتے ہیں :’’حضرت مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے بارہ ۱۲اَیسے کلمات ارشاد فرمائے کہ اگر لوگ ان پر عمل کریں تو کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوجائیں اورکبھی بھی غلط حرکات نہ کریں ۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا:’’اے امیر المؤمنین! وہ کون سے کلمات ہیں ؟‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :’’ وہ نصیحت آموز کلمات یہ ہیں :
(1)…تو اپنے مسلمان بھائی کی پسند کا خیال رکھ ، اس کے ساتھ بھلائی کر ۔ پھر تجھے بھی اس کی طرف سے تیری پسندیدہ چیز ہی ملے گی۔
(2)…کبھی بھی کسی مسلمان بھائی کے کلام میں بدگمانی نہ کر (یعنی ہمیشہ اچھا پہلو تلاش کر )تجھے ضروراس کے کلام میں کوئی اچھی بات مل جائے گی۔
(3)…جب تیرے سامنے دو کام ہوں تو اس کام میں ہرگز نہ پڑ جس میں نفس کی پیروی کرنا پڑے کیونکہ نفس کی پیروی میں سرَاسر نقصان ہے ۔
(4)…جب کبھی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اپنی کسی حاجت میں حاجت برآری چاہتاہو تو دعا سے پہلے اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے درود پاک پڑھ۔ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص پر بہت لطف وکرم فرماتا ہے جو اس سے اپنی حاجتیں طلب کرے۔ پھر اگر کوئی شخص اللہ ربُّ العزَّت سے دو چیزیں مانگتاہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے وہ چیز عطافرماتاہے جو اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے اور جو نقصان دہ ہواسے بندے سے روک لیتا ہے۔
(5)…جو شخص یہ چاہے کہ ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں مشغول رہے تو اسے چاہیے کہ صبر کو اپنا شِعار بنالے اورہر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… الصواعق المحرقۃ، ص۱۷۹۔