Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
396 - 831
مولاعلی کے لیے اپنی چادر اتار کر بچھا دی:
حضرت علامہ مولانا حافظ ابو الحسن علی بن عمر دار قطنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان فرماتے ہیں   کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے متعلق دریافت فرمایا تو بتایا گیا کہ وہ اپنی زمینوں   کی طرف گئے ہیں  ۔ ارشاد فرمایا: ’’اِذْهَبُوْا بِنَا اِلَيْهِ یعنی ہمیں   بھی وہیں   لے چلو۔‘‘ جب وہاں   پہنچے تو دیکھا کہ مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کام کر رہے ہیں  ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تقریباً ایک گھنٹہ ان کے ساتھ کام کرتے رہے۔ پھر دونوں   بیٹھ کر آپس میں   گفتگو کرنے لگے تو مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کیا: ’’يَا اَمِيْرَالْمُؤْمِنِيْنَ اَرَاَيْتَ لَوْ جَاءَكَ قَوْمٌ مِّنْ بَنِيْ اِسْرَائِيْلَ فَقَالَ لَكَ اَحَدُهُمْ اَنَا اِبْنُ عَمِّ مُوْسٰى اَكَانَتْ لَهُ عِنْدَكَ اَثْرَةٌ عَلٰى اَصْحَابِهٖیعنی اے امیر المؤمنین! اگر آپ کے پاس بنی اسرائیل کے کچھ لوگ آئیں   اور ان میں   سے ایک آدمی یہ کہے کہ میں   سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا چچا زاد بھائی ہوں   تو کیا آپ اسے اس کے ساتھیوں   پر ترجیح دیں   گے؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’ جی ہاں   ۔‘‘تو مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے عرض کیا: ’’فَاَنَا وَاللہِ اَخُوْ رَسُوْلِ اللہِ وَابْنُ عَمِّهٖیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا چچا زاد بھائی یعنی ان کے چچا کا بیٹا ہوں  ۔ ‘‘راوی کہتے ہیں  : ’’فَنَزَعَ عُمَرُ رِدَاءَهُ فَبَسَطَهُیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ سنتے ہیں   اپنی چادر اتار کر بچھا دی اور مولا علی شیر خداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کو اس پر بٹھا دیا اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا: ’’لَا وَاللہِ لَا يَكُوْنُ لَكَ مَجْلِسُ غَيْرِهٖ حَتّٰى نَفْتَرِقَ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اب ہمارے اٹھنے تک یہاں   آ پ کے علاوہ کوئی نہیں   بیٹھ سکتا۔‘‘چنانچہ مولا علی شیر خداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   مجلس کے ختم ہونے تک اس چادر پر ہی تشریف فرمارہے۔
امام دار قطنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  : ’’ذَكَرَ عَلِيٌّ لَهُ ذٰلِكَ اِعْلَامًا بِاَنَّ مَا فَعَلَهُ مَعَهُ مِنْ مَجِيْئِهٖ اِلَيْهِ وَعَمَلَهُ مَعَهُ فِيْ اَرْضِهٖ وَهُوَ اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنَّمَا هُوَ لِقَرَابَتِهٖ مِنْ رَّسُوْلِ اللہِ فَزَادَ عُمَرُ فِيْ اِكْرَامِهٖ وَاَجْلَسَهُ عَلٰى رِدَائِهٖیعنی مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے اپنے آپ کو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چچاکے بیٹے ہونے کاذکر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ