Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
395 - 831
مولاعلی میرے آقا ومولاہیں  :
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہدیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے مقابلے میں   حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ساتھ امتیازی سلوک فرمایا کرتے تھے۔ جب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپ سے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا: ’’ اِنَّهُ مَوْلَايَ یعنی حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے آقا ومولا ہیں  ۔‘‘ (1)
مولاعلی میرے اورہر مؤمن کے مولاہیں  :
حضرت سیِّدُنا ابو فاختہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ ایک بار مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  ایک ایسی مجلس میں   تشریف لائے جہاں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف فرما تھے۔ جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کو دیکھا تو سمٹ گئے اور عاجزی کرتے ہوئے مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے جگہ کو کشادہ فرمادیا۔ مجلس کے اختتام کے بعد جب مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  تشریف لے گئے تو بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   عرض کیا: ’’يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنَّكَ تَصْنَعُ بِعَلِيٍّ صَنِيْعًا مَا تَصْنَعُهُ بِاَحَدٍ مِّنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍیعنی اے امیر المؤمنین! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کے ساتھ حسن سلوک کا جیسا انداز ہے ویسا کسی اور صحابی کے ساتھ نہیں   ہے۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’مَا رَاَيْتَنِيْ اَصْنَعُ بِهٖیعنی آپ لوگوں   نے کیا دیکھا، میراان کے ساتھ کیسا رویہ ہے؟‘‘عرض کیا:’’رَاَيْتُكَ كُلَّمَا رَاَيْتَهُ تَضَعْضَعْتَ وَتَوَاضَعْتَ وَاَوْسَعْتَ حَتّٰى يَجْلِسَ یعنی ہم نے دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کو دیکھتے ہیں   تو ان کے لیے سمٹ جاتے ہیں   ، ان کے لیے عاجزی کرتے ہوئے جگہ کو وسیع کردیتے ہیں   جہاں   وہ تشریف فرما ہوتے ہیں  ۔‘‘ یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’مَا يَمْنَعُنِيْ وَاللہِ اَنَّهُ لَمَوْلَايَ وَ مَوْلٰى كُلِّ مُؤْمِنٍیعنی مجھے مولاعلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ اس حسن سلوک سے کون سی چیز روک سکتی ہے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! بے شک یہ میرے مولا ہیں   اور ہر مومن کے مولا ہیں  ۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…فیض القدیر، حرف المیم، ج۶، ص۲۸۲، تحت الحدیث:۹۰۰۰، تاریخ ابن عساکر، ج۴۲، ص۲۳۵۔
2…تاریخ ابن عساکر،  ج۴۲، ص۲۳۵۔