Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
394 - 831
سب سے بڑے قاضی اور حضرت ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم میں   سب سے بڑے قاری ہیں  ۔‘‘(1)
مولاعلی کو تکلیف دینا رسول اللہ کو تکلیف دینا ہے:
حضرت سیِّدُنا عمرو بن شاش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہایک طویل حدیث روایت کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں   کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ آذٰى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِيْ یعنی جس نے علی کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔‘‘(2)
مولاعلی کے خلاف باتیں   کرنے والے کو سرزنش:
حضرت علامہ مولانا عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ بالا حدیث پاک کو نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں  : ’’قَدْ كَانَتِ الصَّحَابَةُ يَعْرِفُوْنَ لَهُ ذٰلِكَ یعنی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو تکلیف دینا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو تکلیف دینا ہے۔‘‘ پھر بطور دلیل امام دار قطنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے ایک روایت بیان کی کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک آدمی کو مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے خلاف باتیں   کرتے دیکھا تو ارشاد فرمایا: ’’وَيْحَكَ اَتَعْرِفُ عَلِيًّا هٰذَا اِبْنُ عَمِّهٖ یعنی تیرا برا ہو کیا تو جانتا ہے کہ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا کے بیٹے ہیں  ؟‘‘پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نورکے پیکر، تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مزار پرانوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’وَاللہِ مَا آذَيْتَ اِلَّا هٰذَا فِيْ قَبْرِهٖیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! تونےاس مزار پرانوار میں   موجود خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تکلیف دی ہے۔‘‘(کیونکہ تونے مولاعلی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو برا کہہ کر ان کو تکلیف دی اور مولا علی کو تکلیف دینا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو تکلیف دینا ہے۔) (3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند امام احمد، مسند الانصار، ج۸، ص۶، حدیث:۲۱۱۴۳ مختصرا۔
2…مستدرک حاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ،من اطاع علیا۔۔۔الخ، ج۴، ص۸۹، حدیث:۴۶۷۷ مختصرا۔
3…فیض القدیر،حرف المیم، ج۶، ص۲۴، تحت الحدیث:۸۲۶۵۔