Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
393 - 831
میں   وہاں   نہ رہوں  جہاں   مولاعلی نہ ہوں  :
حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حج کے لیے تشریف لے گئے ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے طواف کعبہ کرتے ہوئے حجر اسود کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: ’’اِنِّىْ اَعْلَمُ اَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا اِنِّىْ رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَیعنی میں   جانتا ہوں   کہ تو صرف ایک پتھر ہے جو نہ تو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان اور اگر میں   نے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں   بھی کبھی تجھے نہ چومتا۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے بوسہ دیا۔ یہ سن کر مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے عرض کیا: ’’يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنَّهُ يَضُرُّ وَيَنْفَعُ یعنی اے امیر المؤمنین! بے شک یہ پتھر نفع بھی دیتا ہے اور نقصان بھی۔‘‘ فرمایا: ’’وہ کیسے؟‘‘ عرض کیا:’’اِنِّىْ اَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُوْلُ يُؤْتٰى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالْحَجَرِ الْاَسْوَدِ وَلَهُ لِسَانٌ ذَلَقٌ يَشْهَدُ لِمَنْ يَسْتَلِمُهُ بِالتَّوْحِيْدِ فَهُوَ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ يَضُرُّ وَيَنْفَعُ یعنی بے شک میں   اس بات کی گواہی دیتاہوں   کہ میں   نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا کہ کل بروز قیامت حجر اسود کو لایا جائے گا اس حال میں   کہ اس کی ایک زبان ہوگی جس کے ذریعے وہ گواہی دے گا کہ فلاں   شخص نے اسے ایمان کی حالت میں   بوسا دیا ہے۔ اے امیر المؤمنین! یہی اس کا نقصان اور نفع دینا ہے۔‘‘یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَعِيْشَ فِىْ قَوْمٍ لَسْتَ فِيْهِمْ يَا اَبَا الْحَسَنیعنی اے ابوالحسن! میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں   کہ میں   ایسی قوم میں   رہوں   جس میں   آپ نہ ہوں  ۔‘‘ (1)
مولاعلی سب سے بڑے قاضی ہیں  :
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’عَلِیٌّ اَقْضَانَا وَاُبَیٌّ اَقْرَؤُنَا یعنی حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم میں   
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…شعب الایمان للبیھقی،باب فی المناسک،فضیلۃ حجر الاسود،ب ج۳، ص۴۵۱، حدیث:۴۰۴۰ملتقطا۔