Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
392 - 831
اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’تَحَبَّبُوا اِلَى الْاَشْرَافِ وَتَوَدَّدُوْا وَاتَّقُوْا عَلٰى اَعْرَاضِكُمْ مِنَ السُّفْلَةِ وَاعْلَمُوْا اَنَّهُ لَا يُتِمُّ شَرْفٌ اِلَّا بِوِلَايَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰى عَنْهُیعنی اشراف سے اظہار محبت کرو اور انہیں   سے محبت رکھو ، اپنی عزتوں   کو جاہلوں   سے محفوظ رکھو اور اچھی طرح جان لو کہ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دوستی کے بغیر شرف مکمل ہی نہیں   ہوتا۔‘‘(1)
مولاعلی کی تین خصوصیات بزبان فاروقِ اعظم:
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :’’لَقَدْ اُعْطِيَ عَلِيُّ بْنُ اَبِيْ طَالِبٍ ثَلَاثُ خِصَالٍ لَاَنْ تَكُوْنَ لِيْ خَصْلَةً مِّنْهَا اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ اَنْ اُعْطِيَ حُمُرَ النِّعَمِیعنی حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تین باتیں   وہ دی گئیں   کہ ان میں   سے مجھے ایک بھی مل جاتی تو وہ مجھے سرخ اونٹوں   سے زیادہ محبوب ہوتی۔‘‘ (2) کسی نے عرض کیا: ’’مَا هُنَّ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَحضور وہ تین باتیں   کون سی ہیں  ؟‘‘ فرمایا:
 ٭…’’تَزَوُّجُهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمْ یعنی دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی لاڈلی شہزادی حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے نکاح کرنا۔‘‘
٭…’’سُكْنَاهُ الْمَسْجِدَ مَعْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَحِلُّ لَهُ فِيْهِ مَا يَحِلُّ لَهُیعنی حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مسجد میں   بحالت جنابت رہنا کہ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہورسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دونوں   کے لیے یہ حلال تھا۔‘‘
٭…’’وَالرَّاْيَةُ يَوْمَ خَيْبَرَیعنی خیبر کے روز شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو فتح کا جھنڈا عطا فرمانا۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…الصواعق المحرقۃ، ص۱۷۸۔
2…واضح رہے کہ سرخ اونٹ عربوں   کے نزدیک نہایت ہی قیمتی اور عزیز ترین مال شمار کیا جاتا ہے۔
3…مستدرک حاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ، سدوا ھذہ الابواب ۔۔۔الخ، ج۴، ص۹۴، حدیث:۶۴۸۹۔