حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے شہزادۂ اہل بیت سے والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اَنْتَ اَحَقُّ بِالْاِذْنِ مِنْہُ وَھَلْ اَنْبَتَ الشِّعْرُ فِی الرَّاْسِ بَعْدَ اللہِ اِلَّا اَنْتُم یعنی آپ میرے بیٹے سے زیادہ اجازت کے مستحق ہیں اور ہمارے سروں پر یہ بال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات کے بعد آپ لوگوں نے ہی تو اگائے ہیں ۔‘‘(1)
اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ میں یہ احادیث مبارکہ نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں : ’’شہزادوں سے امیر المومنین کے اس فرمانے کا مطلب بھی وہی ہے جو لفظ اَوّل میں تھا کہ یہ بال تمھارے مہربان باپ ہی نے اگائے ہیں صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس طرح اراکین سلطنت اپنے آقازادوں سے کہتے ہیں کہ جو نعمت ہے تمہاری ہی دی ہوئی ہے یعنی تمہارے ہی گھرسے ملی ہے ۔‘‘(2)
وظائف کی تقرری میں سادات سے ابتدا:
حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد گرامی حضرت سیِّدُنا امام محمد باقر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے وظائف مقرر کرنے کے لیے مردم شماری کروائی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے اصحاب سے مشورہ لیا کہ ’’سب سے پہلے کس کا وظیفہ مقرر کیا جائے؟ آغاز کس سے کیا جائے؟ ‘‘سب کہنے لگے: ’’اےامیر المومنین! سب سے پہلے آپ اپنا وظیفہ مقرر کریں ۔‘‘ مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سادات سے آغاز کیااور حضرت سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہو حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے پانچ پانچ سو درہم ماہانہ وظیفہ مقرر کیا۔(3)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مولاعلی سے عقیدت ومحبت
مولاعلی کی دوستی کے بغیر شرف کی تکمیل نہیں :
حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الصواعق المحرقۃ، ص۱۷۹۔
2…فتاویٰ رضویہ، ج۳۰، ص۴۶۷۔
3…الاوائل للعسکری ،ج۱،ص۴۶، ریاض النضرۃ ،ج۱، ص۳۴۱۔