اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اَیْ بُنَيَّ لَوْ جَعَلْتَ تَاْتِيْنَا یعنی اے میرے بیٹے! میری تمنا ہے کہ آپ ہمارے پاس آیا کریں ۔‘‘ چنانچہ میں ایک دن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے گھر گیا مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت ا میر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ علیحدگی میں مصروفِ گفتگو تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دروازے پر کھڑے انتظار کر رہے تھے۔کچھ دیر انتظار کے بعد وہ واپس لوٹنے لگے تو ان کے ساتھ ہی میں بھی واپس لوٹ آیا۔بعد میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے میری ملاقات ہوئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’لَمْ اَرَكَ یعنی حسین بیٹا! آپ ہمارے پاس دوبارہ آئے ہی نہیں ؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ اے امیر المومنین ! میں تو آیا تھا مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ مصروفِ گفتگو تھے۔ آپ کے بیٹے عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے ( میں نے سوچا جب بیٹے کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے مجھے کیسے ہوسکتی ہے )لہٰذا میں ان کے ساتھ ہی واپس چلا گیا۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’اَنْتَ اَحَقُّ بِالْاِذْنِ مِنْ عَبْدِ اللہِ ابْنِ عُمَرَ اِنَّمَا اَنْبَتَ فِيْ رُؤُوْسِنَا اللہُ ثُمَّ اَنْتُمیعنی اے میرے بیٹے حسین ! میری اولاد سے زیادہ آپ اس بات کے حق دار ہیں کہ آپ اندر آجائیں ۔اور ہمارے سروں پر یہ جو بال ہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بعد کس نے اگائے ہیں تم سادات کرام نے ہی تو اگائے ہیں ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی شہزادۂ امامِ حسن کے ساتھ والہانہ محبت:
ایک بارامام حسن مجتبیٰ، لختِ جگر مولا علی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کا شانۂ فاروقی پر آنے کی اجازت طلب کی، ابھی اجازت نہ آئی تھی کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے صاحبزادے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دروازے پر حاضر ہو کر داخل ہونے کی اجازت مانگی۔امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اجازت نہ دی ۔یہ دیکھ کر سیِّدُنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی واپس آگئے۔ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انھیں بلا بھیجا ۔انھوں نے آکر کہا :’’یا امیر المومنین ! میں نےیہ خیا ل کیا کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی تو مجھے کیوں دیں گے؟‘‘ یہ سن کر امیر المؤمنین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر ، ج۱۴، ص۱۷۵۔