Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
39 - 831
 ہیں   کیونکہ ہاشم اور ہشام سگے بھائی ہیں  اور ابوجہل اور حارث ہشام کی اولاد ہیں  ، جب کہ ہاشم حَنْتَمَہ کے والد اور فاروقِ اعظم کے نانا ہیں  ۔لہٰذا ابو جہل آپ کا سگا بھائی نہیں   بلکہ آپ کے چچا یعنی ہشام کا بیٹا ہے۔(1)
فاروقِ اعظم کے قبیلے کی شرف یابی:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ قبیلہ عدی بن کعب سے تعلق رکھتے تھے جو قریش کا عدنانی قبیلہ تھا۔ اس قبیلے کی شرافت وبزرگی نے اسے ہاشم، امیہ، تیم اور مخزوم جیسے ممتاز قبائل میں   شامل کردیا تھا۔اگرچہ اس قبیلے کے پاس کوئی مذہبی یا سیاسی منصب ومرتبہ نہیں   تھا اور نہ ہی مال ودولت میں   وہ ان قبیلوں   کے مساوی تھے البتہ عزت ، شرف اور بزرگی میں   وہ قبیلہ بنی عبد شمس کے مقابل تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان دونوں   قبائل میں   سالہا سال سے منافرت (دشمنی)قائم تھی۔آپ کے قبیلے والے تعداد میں   تھوڑے اور بڑے قبائل کے حریف نہ ہونے کی وجہ سے علم وحکمت و دور اندیشی میں   اپنا ایک خاص مقام ومرتبہ رکھتے تھے۔ نیز امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آپ کے اسی علم وحکمت کے سبب سفارت کاری اور عدالت کے ضروری عہدے دے دیے گئے۔یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خاندان میں   حضرت سیِّدُنا زید بن عمرو بن نفیل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسی عظیم شخصیات پیدا ہوئیں   جنہوں   نے اپنے حکمت ودانش مندی سے بت پرستی ترک کردی، بتوں   کا ذبیحہ کھانا چھوڑ دیااور پکے موحد (  اللہ1کی توحید کے قائل)بن گئے۔(2)
فاروقِ اعظم کا نامِ نامی اسم گرامی
فاروقِ اعظم کا نام نامی اسم گرامی:
دورِ جاہلیت اور دورِاسلام دونوں   میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام ’’عمر ‘‘ہی رہا۔ ’’عمر‘‘ کے معنی ہیں   ’’آباد رکھنے والا‘‘ یا ’’آباد کرنے والا‘‘۔حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سبب چونکہ اسلام آباد ہونا تھا اس لیے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پہلے ہی آپ کو’’ عمر‘‘ نام عطا فرمادیا اور اسلام آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سبب آباد ہوالہٰذا آپ اسم بامسمی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اسد الغابۃ، عمر بن خطاب، ج۴، ص۱۵۶ ملخصاً، تھذیب الاسماء ، عمر بن خطاب، ج۲، ص۳۲۴۔
2… اخبار مکۃ للازرقی،ذکر رباع بنی عدی بن کعب، ج۲، ص۲۵۸، ریاض النضرۃ، ج۲، ص۳۳۷۔