نے خود ہی عطا فرمائے ہیں ۔‘‘
ارشاد فرمایا: ’’مِنْ اَجْلِ الْغُلَامَيْنِ يَتَخَطِّيَانِ النَّاسَ لَيْسَ عَلَيْهِمَا مِنْهُمَا شَيْ ءٌیعنی یہ بات میں ان دونوں شہزادوں کی وجہ سے کہہ رہا ہوں ، جو لوگوں کے درمیان اس حالت میں چل رہے ہیں کہ ان دونوں نے ان قیمتی کپڑوں میں سے کوئی کپڑا پہنا ہوا نہیں ہے۔‘‘راوی کہتے ہیں کہ :’’ثُمَّ كَتَبَ اِلٰى صَاحِبِ الْيَمَنِ اَنْ اَبْعَثَ اِلَيَّ بِحُلَّتَيْنِ لِحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَعَجِّلْیعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فوراً حاکم یمن کو خط لکھا کہ جلد از جلد امام حسن اور امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے لیے دو بہترین اور قیمتی حلے تیار کرواکے بھیجو۔‘‘حاکم یمن نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور دو حلے تیار کرواکے بھیج دیے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حسنین کریمین کو وہ جوڑے پہنائے اور مسرور ہو کر ارشاد فرمایا:’’لَقَدْ كُنْتُ اَرَاهَا عَلَيْهِمْ فَمَا يَهْنِيْنِيْ حَتّٰى رَاَيْتُ عَلَيْهِمَا مِثْلَهَا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !جب تک ان دونوں شہزادوں نے نئے کپڑے نہیں پہنے تھے مجھے دوسروں کے پہننے کی کوئی خوشی نہ تھی۔‘‘
ایک روایت میں یوں ہے کہ حسنین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو کپڑے پہنا کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’اَلْآنَ طَابَتْ نَفْسِيْ یعنی اب میں خوش ہو گیا ہوں ۔‘‘ (1)
اپنی اولاد سے زیادہ سادات کرام سے محبت:
حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے بچپن کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمنبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں آیا اور منبر پر چڑھ گیا اور اپنی ننھی سوچ کے مطابق آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہنے لگا کہ ’’اِنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِ اَبِيْ وَاذْھَبْ مِنْبَرَاَبِيْكَیعنی آپ میرے والدکے منبر سے اترجائیں ، اپنے والد کے منبر پر جا کر بیٹھیں ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’اِنَّ اَبِيْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْبَرْ یعنی میرے والد کا تو کوئی منبر ہی نہیں ۔‘‘ یہ کہہ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے اپنی گود میں بٹھالیا، میرے ہاتھ میں کنکر تھے جن سے میں کھیلتا رہا۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفارغ ہوئے تو مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے اور فرمایا: ’’مَنْ عَلَّمَكَ؟یعنی اے حسین بیٹا! آپ کو یہ بات کس نے سکھائی ؟‘‘ میں نے کہا:’’ کسی نے نہیں ۔‘‘ آپ رَضِیَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر ،ج۱۴،ص۱۷۷، ریاض النضرۃ، ج۱، ص۳۴۱۔