Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
388 - 831
 اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سنت پر عمل کرتے ہوئے ان سید صاحب کو دوگنا تحفہ پیش کرتے ہیں  ۔
اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور
نجم ہیں   اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
سب صحابہ سے ہمیں   تو پیار ہے
ان شاء اللہ اپنا بیڑا پار ہے
ہم کو اہل بیت سے بھی پیار ہے
دو جہاں   میں   اپنا بیڑا پار ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حسنین کریمین کی خوشی میں   فاروقِ اعظم کی خوشی:
حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد گرامی حضرت سیِّدُنا امام محمد باقر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس یمن سے کچھ عمدہ کپڑے آئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہ کپڑے مہاجرین و انصار میں   تقسیم کردیے۔لوگ ان کپڑوں   کو پہن کر بہت فرحت محسوس کررہے تھے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منبر رسول اور قبر انور کے درمیان تشریف فرماتھے، لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوتے اور آپ کو سلام کرتے اور دعائیں   دیتے۔اچانک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے شہزادیٔ کونین کے کاشانۂ اقدس سے حسنین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا باہر تشریف لائے کیونکہ سیدہ فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا گھر مسجد نبوی کے صحن ہی میں   تھا۔ دونوں   شہزادوں   کے جسموں   پر ان عمدہ کپڑوں   میں   سے کوئی کپڑا نہیں   تھا۔ جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے شہزادوں   کو دیکھا تو آپ کے تیور تبدیل ہوگئے، ماتھے پر شکن پڑگئے، آپ نے جلال میں   آکر ارشاد فرمایا: ’’وَاللہِ مَا هَنَاَنِيْ مَا كَسَوْتُكُمْیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   نے جو تم لوگوں   کو قیمتی کپڑے پہنائے ہیں   انہیں   دیکھ کر مجھے ذرہ بھر بھی خوشی نہیں   ہوئی۔‘‘سب لوگ یہ سن کر حیران وپریشان ہوگئے اور عرض کرنے لگے کہ ’’حضور ایسی کیا بات ہوگئی جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہیہ ارشاد فرمارہے ہیں  ؟ حالانکہ یہ تمام کپڑے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ