آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آ ل اور اَہلِ بیت سے محبت کیوں نہ رکھے گا۔لہٰذا جہاں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو مدینہ پاک کے ذرہ ذرہ سے بے پناہ محبت ہے وہیں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ حضراتِ ساداتِ کرام کی تعظیم و توقیر بجالانے میں بھی پیش پیش رہتے ہیں ۔ ملاقات کے وقت اگرامیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو بتادیا جائے کہ یہ سید صاحب ہیں توبار ہا دیکھا گیا ہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نہایت ہی عاجزی سے سید زادے کا ہاتھ چوم لیا کرتے ہیں ۔ انہیں اپنے برابر میں بٹھاتے ہیں ، ساداتِ کِرام کے بچوں سے بے پناہ محبت اور شفقت سے پیش آتے ہیں ۔کبھی کبھی کسی سید زادے کو دیکھ کر امام اہلسنّت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا یہ شعر جھوم جھوم کر پڑھنے لگتے ہیں ۔
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانا نور کا
امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ خود اس شعر کی شرح کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :’’میرے آقااعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اِس شعر میں فرماتے ہیں :یا نورَاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ تو ہیں ہی نو ر بلکہ نُوْرٌ عَلٰی نُوْر (یعنی نور پَر نور)۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارَک نَسل میں تا قِیامت جتنے بھی بچّے ہوں گے یعنی ساداتِ کرام وہ بھی سب کے سب نور ہیں ۔اے نور والے پیارے پیارے آقا! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سارے کا سارا گھرانا ہی نور،نور اور بس نور ہے۔‘‘(1)
نور اندر نور باہر گھر کا گھر سب نور ہے
آگیا وہ نور والا جس کا سارا نور ہے
آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سیرتِ فاروقی کے مظہر ہیں کہ بارہا مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بھی یہ عادت مبارکہ ہے کہ آپ سے جو اسلامی بھائی ملاقات کے لیے آتے ہیں انہیں عموماً آپ کی طرف سے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور عطا ہوتا ہے، اگر کسی اسلامی بھائی کے بارے میں یہ معلوم ہو جائے کہ یہ سید صاحب ہیں تو اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں نیز دیگر لوگوں کے مقابلے میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…نیکی کی دعوت، حصہ اول، ص۵۸۶۔