Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
386 - 831
٭…’’خَالَتَاهُمَا رُقَيَّةُ وَاُمُّ كُلْثُوْمٍ اِبْنَتَا رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّماور ان کی خالائیں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیٹیاں  سیدہ رقیہ اورسیدہ اُمّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہیں  ۔‘‘(1)
اعلی حضرت سیرتِ فاروقی کے مظہر ہیں  :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اہل بیت سے عشق ومحبت کا یہ نہایت ہی انوکھا انداز ہے کہ اپنی سگی اولاد کے مقابلے میں   اہل بیت کے شہزادوں   کو دو گنا عطا فرمایا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اہل بیت سے یہی محبت آج آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشاق میں   بھی سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عاشق فاروقِ اعظم، اعلی حضرت، عظیم البرکت، امام اہل سنت، مجدددین وملت، پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سیرتِ فاروقی کے مظہر ہیں  ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی عادات مبارکہ میں   سے تھا کہ جب محفل میلاد وغیرہ میں   شیرنی تقسیم ہوتی تو سادات کرام کو دیگر لوگوں   کی بنسبت دوگنا حصہ نذر کیا جاتا۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے خلیفہ مولانا ظفر الدین بہاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں  : 
’’حضور (یعنی اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  )کے یہاں   مجلس میلاد مبارک میں   سادات کرام کو بنسبت اور لوگوں   کے دوگنا حصہ بروقت تقسیم شرینی (یعنی شرینی تقسیم ہوتے وقت)ملا کرتا تھا اور اسی کا اتباع اہل خاندان بھی کرتے ہیں  ۔‘‘(2)
امیر اہل سنت سیرتِ فاروقی کے مظہر ہیں  :
 	تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے بانی، عاشق اعلی حضرت، امیر اہلسنت، شیخ طریقت ، رہبر شریعت، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس وقت عالم اسلام کی عظیم علمی و روحانی شخصیت ہیں  ،آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ عشقِ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں   فنا ہیں   اور یہ ایک فطری امر ہے کہ جس سے عشق ہوتا ہے اس سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے بھی عشق ہوجاتا ہے ۔محبوب کے گھر سے، اس کے درو دیوار سے ، محبوب کے گلی کوچوں   تک سے عقیدت ہوجاتی ہے۔ پھربھلا جوعشق نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں   گم ہو وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ریاض النضرۃ ،ج۱، ص۳۴۰۔
2…حیاتِ اعلی حضرت، ج۱، ص۱۸۲۔