آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’بِالرَّحْبِ وَالْكَرَامَةِیعنی آپ کے لیے بڑی پذیرائی اور کرامت (عزت) ہے۔‘‘ ساتھ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک ہزار درہم انہیں بھی دے دیے۔
٭…اس کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاٹھے اور اپنا حصہ مانگا ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’بِالرَّحْبِ وَالْكَرَامَةِیعنی آپ کے لیے بھی بڑی پذیرائی اور کرامت (عزت) ہے۔‘‘ اور ساتھ ہی انہیں پانچ سو درہم عطا فرمائے۔
انہوں نے عرض کیا: ’’ اے امیر المومنین ! میں نے اس وقت بھی حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تلوار اٹھا کر جہاد کیا ہے جب سیِّدُنا حسن و حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کم عمر مدنی منے تھے۔ اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں ایک ایک ہزار درہم اور مجھے پانچ سو عطا کیے؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ سننا تھا کہ اہل بیت کی محبت کا سمندر موجیں مارنے لگا اور عشق ومحبت سے سرشار ہوکر ارشاد فرمایا:’’اِذْهَبْ فَأْتِنِی بِاَبٍ كَاَبِيْهِمَا وَاُمٍّ كَاُمِّهِمَا وَجَدٍّ كَجَدِّهِمَا وَجَدَّةٍ كَجَدَّتِهِمَا وَعَمٍّ كَعَمِّهِمَا وَخَالٍ كَخَالِهِمَا فَاِنَّكَ لَا تَاتِيْنِيْ بِهٖ جی ہاں بالکل! (اگر تم چاہتے ہوکہ میں تمہیں بھی ان کے برابر حصہ دوں تو)جائو پہلے تم حسنین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے باپ جیسا باپ لائو ،ان کی والدہ جیسی والدہ ، ان کے نانا جیسانانا، ان کی نانی جیسی نانی ، ان کے چچا جیسا چچا ، ان کے ماموں جیسا ماموں اوران کی ممانیاں جیسی ممانیاں لائواورتم کبھی بھی نہیں لاسکتے۔کیونکہ :
٭…’’اَبُوْهُمَا فَعَلِيُّ الْمُرْتَضٰىان کے والد علی المرتضی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں ۔‘‘
٭…’’اُمُّهُمَا فَفَاطِمَةُ الزَّهْرَاءان کی والدہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاہیں ۔‘‘
٭…’’جَدُّهُمَا مُحَمَّدُنِ الْمُصْطَفٰیان کے نانا محمد مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں ۔‘‘
٭… ’’جَدَّتُهُمَا خَدِيْجَةُ الْكُبْرٰىان کی نانی سیدہ خدیجۃ الکبری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاہیں ۔‘‘
٭…’’عَمُّهُمَا جَعْفَرُ بْنُ اَبِيْ طَالِبٍان کے چچا حضرت جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں ۔‘‘
٭… ’’خَالُهُمَا اِبْرَاهِيْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَان کے ماموں حضرت ابراہیم بن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں ۔‘‘