اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں اور میری اَولاد اسے اپنی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے اور میری ذات اس کی اپنی ذات سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے اور میرے گھر والے اسے اپنے گھر والوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں ۔‘‘(1)
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جو نبیٔ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شب وروز، نظر ایمان سے زیارت فرماتے تھے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدمین شریفین کے بوسے لیتے تھے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے نمازیں ادا فرماتے تھے، اُن سے زیادہ اس حدیث پاک کا مفہوم کون سمجھ سکتا ہے؟امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس حدیث پاک کے پکے عامل تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کبھی بھی اپنی ذات ، اپنی اولاد کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہل بیت پر ترجیح نہ دی۔ آئیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اہل بیت سے عشق ومحبت کے دلنشین واقعات کو ملاحظہ کیجئے اور اپنے دل میں محبت اہل بیت کی شمع کو مزید روشن کیجئے:
حسنین کریمین سے عقیدت ومحبت
فاروقِ اعظم حسنین کریمین کو اپنی اولاد پر ترجیح دیتے:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب خلافت فاروقی میں اللہ تعالٰینے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ہاتھ پر مدائن فتح کیا اور مال غنیمت مدینہ منورہ میں آیا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مسجد نبوی میں چٹائیاں بچھوائیں اور سارا مال غنیمت ان پر ڈھیر کروادیا۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مال لینے جمع ہوگئے ۔سب سے پہلے حضرت سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
٭…’’يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَعْطِنِيْ حَقِّيْ مِمَّا اَفَاءَ اللہُ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَیعنی اے امیر المومنین ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جو مسلمانوں کو مال عطا فرمایا ہے اس میں سے میرا حصہ مجھے عطا فرمادیں ۔‘‘
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’بِالرَّحْبِ وَالْكَرَامَةِیعنی آپ کے لیے بڑی پذیرائی اور کرامت (عزت) ہے۔‘‘ساتھ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک ہزار درہم انہیں دے دیے۔ انہوں نے اپنا حصہ لیا اور چلے گئے۔
٭…ان کے بعد حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہو کر اپنا حصہ مانگا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، باب فی حب النبی، فصل فی براءتہ۔۔۔الخ، ج۲، ص۱۸۹، حدیث:۱۵۰۵۔