Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
383 - 831
رسول اللہ کی اولاد واقرباء سے محبت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بِحَمْدِ للّٰہ تَعَالٰی مسلک حق اہلسنت وجماعت وہ مہذب، پیارا اور باادب مسلک ہے جس میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہر مقبول بندے کا ادب واحترام موجود ہے، حبیب خدا، شافع روزِ جزا، مالک ہردوسرا، حضور خاتم الانبیاء ، احمد مجتبےٰ، محمد مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات گرامی سے جس کی بھی نسبت ہو ہر سنی مسلمان کے دل میں   اس کی تعظیم وتکریم ضرور ہوگی۔برادرِ اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اسی عقیدے کی ترجمانی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :
جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعل پاک حضور
تو پھر کہیں   گے کہ ہاں   تاجدار ہم بھی ہیں  
جب سرکار دوعالم، نورمجسم، شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نورانی تلوؤں   کو بوسے دینے والی نعلین شریفین کا یہ ادب واحترام ہے تو اہل بیت اَطہار جو کہ سرورِ کون ومکاں  ، وارثِ زمین وآسماں  ، محبوبِ ربّ دوجہاں   صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خون مبارک ہیں   اُن کا ادب واحترام اور اُن سے عقیدت والفت کا کیا عالم ہوگا۔اعلی حضرت ،عظیم البرکت، امام اہلسنت، مجدددین وملت، پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اہل بیت اطہار رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی بارگاہ میں   نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا خوب ارشاد فرماتے ہیں  :
کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں   حسین اور حسن پھول
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اہل بیت عظام کی یہ عظیم محبت مسلک اہل سنت وجماعت کوخود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ سے عطا ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابی لیلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں   کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا: ’’لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰى اَكُوْنَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ نَّفْسِهٖ وَ تَكُوْنَ عِتْرَتِيْ اَحَبُّ اِلَيْهِ مِنْ عِتْرَتِهٖ وَ ذَاتِیْ اَحَبُّ اِلَيْهِ مِنْ ذَاتِهٖ وَ يَكُوْنَ اَهْلِيْ اَحَبُّ اِلَيْهِ مِنْ اَهْلِهٖیعنی کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں   ہوسکتا جب تک کہ میں   اسے