Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
381 - 831
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اَتَانِيْ جِبْرِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ اِقْرَاْ عُمَرَ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ اِنَّ رَضَاهُ حُكْمٌ وَاِنَّ غَضَبَهُ عِزٌّیعنی میرے پاس جبریل امین (عَلَیْہِ السَّلَام  )آئے اور کہا کہ عمر فاروق (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ طرف سے سلام دے دیں  اور انہیں   یہ بتادیں   کہ ان کی رضا حکم ہے، اور ان کی ناراضگی(دین کے لیے) عزت ہے۔‘‘(1)
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رضا کو حکم اور آپ کے غضب کو دین کے لیے عزت اس لیے فرمایا گیا ہے کہ آپ فقط حق بات کے لیے ہی راضی ہوتے اور غصہ فرماتے ہیں   ۔(2)
جس نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا:
حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسےروایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ اَحَبَّ عُمَرَفَقَدْ اَحَبَّنِيْ وَمَنْ اَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ اَبْغَضَنِيْ یعنی جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔‘‘(3)
زندگی میں   عزت اور رحلت میں   شہادت:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا: ’’صَاحِبٌ رَحَا دَارَةُ الْعَرَبِ يَعِيْشُ حَمِيدًا وَيَمُوْتُ شَهِيْدًایعنی وہ شخص ایسا ہے کہ عرب کے شہروں   کا سردارہے، وہ زندہ رہے گا تو عزت سے اور رحلت کرے گا تو شہادت سے۔‘‘ عرض کیا گیا: ’’وہ کون ہے؟‘‘ فرمایا:’’ عمر بن خطاب۔‘‘(4)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…معجم کبیر ،باب العین ،ج۱۲، ص۴۸، حدیث:۱۲۴۷۲۔
2…فیض القدیر، ج۲، ص۲۷۸، تحت الحدیث:۱۷۰۸ملخصا۔
3…الشفاء،الباب الثالث فی تعظیم امرہ ووجوب توقیرہ ،فصل من توقیرہ وبرہ،ج۲، ص۵۴۔
4…معجم اوسط ،من اسمہ مطلب، ج۶، ص۲۷۲، حدیث: ۸۷۴۹۔