شارح حدیث علامہ نووی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ، اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، صالحین اور اہل خیر سے محبت کی فضیلت ہے، خواہ وہ صالحین حیات ہوں یا وفات پاچکے ہوں ۔اللہ
عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کی علامت یہ ہے کہ مسلمان اُن کے احکام پر عمل کرتا ہے اور جن کاموں سے انہوں نے منع کیا ہے اُن سے باز رہتاہے۔ جبکہ صالحین سے محبت میں یہ شرط نہیں ہے کہ انسان اُن کے اعمال کی مثل عمل کرے کیونکہ اگر وہ اُن کے اعمال کی مثل کرے گا تو وہ خود صالحین میں سے ہوگا، اُن کی مثل ہوگا نہ کہ اُن کے محبین میں سے ہوگا۔(1)
فاروقِ اعظم سے محبت کرنے کا مقام :
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ اَحَبَّ عُمَرَ عُمِرَ قَلْبُہُ بِالْاِیْمَانِ یعنی جس نے عمر سے محبت کی اس کا دل ایمان سے معمور کردیا جائے گا۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم کی ناراضگی رب کی ناراضگی
فاروقِ اعظم کی ناراضگی سے اللہ ناراض ہوتا ہے :
حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منو رہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اِتَّقُوْا غَضَبَ عُمَرَ، فَاِنَّ اللہَ يَغْضِبُ اِذَا غَضَبَیعنی عمر کے غضب سے بچا کرو کیونکہ ان کی ناراضگی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی ناراض ہوجاتا ہے۔‘‘ (3)
فاروقِ اعظم کی رضا حکم ہے:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… شرح صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب المرء مع من احب، ج۱۶، ص۱۸۶، تحت الحدیث: ۱۶۲۔
2…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۱۹۔
3…جمع الجوامع ،حرف الھمزہ ، ج۱، ص۸۳، حدیث:۴۳۴۔