خطاب پیش ہوئے تو ان کی قمیص زمین تک لمبی تھی۔‘‘ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ مبارک خواب سن کر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے کسی صحابی نے پوچھا: ’’مَا اَوَّلْتَ یَا نَبِیَّ اللہِ ذَالِکَ؟یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !‘‘آپ نے اس خواب کی کیا تعبیر مراد لی ہے؟‘‘فرمایا: ’’دین۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم سے محبت کا صلہ
سیِّدُنا انس بن مالک کی شیخین سے محبت:
حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص نے عرض کی :’’مَتَى السَّاعَةُیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! قیامت کب قائم ہو گی؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے دریافت فرمایا :’’وَمَاذَا اَعْدَدْتَ لَهَایعنی تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟‘‘ تو اس نے عرض کی:’’لَا شَيْءَ إِلَّا اَنِّي اُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !تیاری تو کچھ نہیں کی، مگر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرتا ہوں ۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’ اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَیعنی تم جس سے محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہو گے۔‘‘حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ہمیں کسی چیز سے اتنی خوشی حاصل نہیں ہوئی جتنی خوشی شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان سے ہوئی کہ’’تم جس کے ساتھ محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہو گے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہارشاد فرماتے ہیں :’’فَاَنَا اُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَاَرْجُو اَنْ اَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي اِيَّاهُمْ وَاِنْ لَمْ اَعْمَلْ بِمِثْلِ اَعْمَالِهِمْیعنی میں سیدعالم، نورمجسّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، حضرت سیِّدُنا ابوبکر اور حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے محبت کرتا ہوں اور مجھے اُمید ہے کہ ان سے محبت کرنے کی وجہ سے میں انہیں کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میرے اعمال ان کے مثل نہیں ہیں ۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ،کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب عمر۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۲۸، حدیث:۳۶۹۱۔
2…بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب عمر ۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۲۵، حدیث:۳۶۸۸۔