راتوں کو عبادت کرنے والے، دن کو روزہ رکھنے والے اور لوگوں کی غم خواری کرنے والے ہوں گے۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اَحَقٌ مَا تَقُوْلُ؟یعنی جو آپ کہہ رہے ہیں کیا یہ سچ ہے؟‘‘میں نے کہا : ’’اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جو میری بات سن رہا ہے! یہ بالکل سچ ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَعَزَّنَا وَكَرَّمَنَا وَشَرَّفَنَا وَرَحِمَنَا بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَرَحْمْتِهِ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ یعنی تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں عزت فضیلت اور شرافت بخشی اور ہمارے پیارے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اپنی رحمت کے صدقے رحم فرمایا جو ہر شے کو محیط ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم پر رب کا خصوصی کرم
روز عرفہ فاروقِ اعظم پر خصوصی کرم:
حضرت سیِّدُنا بلال بن رباح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے روز عرفات مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’اے بلال ! لوگوں کوخاموش کرائو۔‘‘ جب سب خاموش ہوگئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’آج اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تم پر کرم فرمایا ہے، تمہاری نیکیوں کے سبب تمہارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں اور جتنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا ثواب عطا فرمایا ہے، تو تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی برکت پر یہاں سے نکل کھڑے ہو، آج اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرشتوں کے سامنے تمام اہل عرفہ ( حجاج کرام) پر عمومی کرم فرمایا ہے اور عمر بن خطاب پر خصوصی کرم فرمایا ہے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم کا دین سب سے زیادہ ہے:
حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میں سویا ہوا تھا، میں نے خواب دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں جنہوں نے قمیصیں پہن رکھی ہیں ۔ کسی کی قمیص صرف اس کے سینے تک ہے ،کسی کی اس سے لمبی ہے۔ جب عمر بن
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر نظم الدرر، پ۲۶، الفتح ، تحت الآیۃ:۲۹،ج۷،ص۲۱۷، ریاض النضرۃ، ج۱، ص۳۱۹۔
2…ریاض النضرۃ ،ج۱، ص۳۰۴۔