Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
377 - 831
امیرالمومنین! قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں   میری جان ہے! آپ کو کتاب اللہ میں   جہنم کے دروازوں   سے ایک دروازے پر پاتے ہیں   کہ آپ لوگوں   کو جہنم میں   گرنے سے روکے ہوئے ہیں  ، جب آپ انتقال فرمائیں   گے تو قیامت تک لوگ جہنم میں   گرتے رہیں   گے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی رحلت پر اسلام روئے گا:
حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ میرے پاس جبریل امین(عَلَیْہِ السَّلَام ) آئےتومیں   نے انہیں   کہا:’’ اَخْبِرْنِيْ عَنْ فَضَائِلِ عُمَرَ وَمَاذَا لَهُ عِنْدَ اللہِ تَعَالٰىیعنی عمر فاروق (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی فضیلت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   ان کی قدرو قیمت بیان کرو۔‘‘ وہ کہنے لگے :’’لَوْجَلَسْتُ مَعَكَ قَدْرَ مَا لَبِثَ نُوْحٌ فِيْ قَوْمِهٖ لَمْ اَسْتَطِعْ اَنْ اَخْبَرَكَ بِفَضَائِلِ عُمَرَ وَمَا لَهُ عِنْدَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ یعنییارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر میں   حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی عمر جتنا وقت آپ کے پاس بیٹھوں   تو بھی عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فضائل اور بارگاہِ الٰہی میں   آپ کا مقام و مرتبہ بیان نہیں   کرسکتا۔‘‘پھر جبریل امین (عَلَیْہِ السَّلَام ) نے کہا:’’لَيَبْكِيَنَّ الْاِسْلَامُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكَ عَلٰى مَوْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اسلام دو مرتبہ روئے گا ایک تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رحلت پراور دوسری مرتبہ عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رحلت پر۔‘‘(2)
 آسمانی کتب میں   آپ کی تعریف:
حضرت سیِّدُنا کعب الاحبا ر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ ملک شام میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے میری ملاقات ہوئی تو میں   نے کہا: ’’کتاب اللہ میں   لکھا ہے کہ ایسے شہر جن میں   بنی اسرائیل کا بسیرا ہوگا ان کی فتح ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر ہوگی جو نیکوکار، مسلمانوں   پر رحیم، کافروں   پر عذابِ الیم اور ظاہر و باطن میں   ایک جیسا ہوگا، اس کے قول و فعل میں   تضاد نہیں   ہوگا، اپنے اور بیگانے اس کی نظر میں   برابر ہوں   گے، اور اس کے ساتھ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…طبقات کبرٰی ، ذکر استخلاف عمر ، ج۳، ص۲۵۳، فتاویٰ رضویہ، ج۳۰، ص۶۱۲۔
2…تاریخ ابن عساکر،ج۳۰،ص۱۲۲، مسند ابی یعلی ،مسند عمار بن یاسر ، ج۲، ص۱۱۹، حدیث:۱۶۰۰،ص۱۷۹ ۔ ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۱۷ ملتقطا۔