Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
376 - 831
نے جہنم کا دروازہ بند کررکھا ہے اور کسی کو اندر نہیں   جانے دیا یعنی لوگوں   کو اسلام کی راہ پر ڈال دیا ہے اور وہ جہنم میں   جانے سے بچ گئے ہیں  ۔‘‘ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پریشانی جاتی رہی۔(1)
جہنم کے دروازہ پر:
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی زوجہ مقدسہ حضرت سیدتنا اُمّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بلایاجو امیر المومنین مولی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  وحضرت سیدتنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی لاڈلی شہزادی تھیں   اور وہ رو رہی تھیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رونے کا سبب پوچھا تو عرض کیا:’’يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! هٰذَا الْيَهُوْدِيُّ يَقُوْلُ اِنَّكَ عَلٰى بَابٍ مِّنْ اَبْوَابِ جَهَنَّمیعنی اے امیر المومنین! یہ یہودی کعب احبار کہتا ہے کہ آپ جہنم کے دروازوں   سے ایک دروازے پر ہیں  ۔‘‘(حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اجلہ ائمہ تابعین وعلمائے کتابین واعلم علمائے توریت سے ہیں  ، پہلے یہودی تھے، خلافت فاروقی میں   مشرف باسلام ہوئے ، شاہزادیٔ مولا علی کا اس وقت غصے کی حالت میں   انہیں   اس لفظ سے تعبیر فرمانابربنائے نازک مزاجی تھا کہ لازمہ شاہزادگی ہے رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن ) امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’مَا شَاءَ اللہُ وَاللہِ اِنِّيْ لَاَرْجُوْ اَنْ يَّكُوْنَ رَبِّيْ خَلَقَنِيْ سَعِيْدًایعنی جو رب عَزَّ وَجَلَّ چاہے۔خدا کی قسم! مجھے یقین ہے کہ میرے رب نے مجھے سعید (یعنی خوش بخت)پیدا کیا ہے۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلا بھیجا ، انہوں   نے حاضرہوکر عرض کی: ’’يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَا يَنْسَلَخْ ذُوْ الْحِجَّةِ حَتّٰى تَدْخُلَ الْجَنَّةَیعنی امیرالمومنین ! مجھ پر جلدی نہ فرمائیں  ، اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے! ذی الحجہ کا مہینہ ختم نہ ہونے پائے گا کہ آپ جنت میں   تشریف لے جائیں   گے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حیران ہو کر ارشاد فرمایا: ’’اَيَّ شَيْءٍ هٰذَا مَرَّةً فِي الْجَنَّةِ وَمَرَّةً فِي الَّنارِ؟یعنی اے کعب!یہ کیا بات ہوئی کبھی تو جہنمی کہتے ہو، کبھی جنتی کہتے ہو؟‘‘ عرض کی : ’’وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ! اِنَّا لَنَجِدُكَ فِيْ كِتَابِ اللہِ عَلٰى بَابٍ مِّنْ اَبْوَابِ جَهَنَّمَ تَمْنَعُ النَّاسَ اَنْ يَقْعُوْا فِيْهَا، فَاِذًا مُتَّ لَمْ يَزَالُوْا يَقْتَحِمُوْنَ فِيْهَا اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِیعنی یا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ریاض النضرۃ ،ج۲، ص۳۰۷۔