Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
375 - 831
بہتردین و یقین والا ہوگا، جب تک دنیا والوں  میں   رہے گا ان کا دین غالب اوریقین محکم رہے گا۔‘‘
٭…’’وَاسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى مِنَ الدِّيْنِ فَجَهَنَّمُ مُقْفَلَةٌ  لوگ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہیں   گے اور جہنم کو تالہ لگارہے گا۔‘‘
٭…’’فَاِذَا مَاتَ عُمَرُ يَرِقُّ الدِّيْنُ وَيَقِلُّ الْيَقِيْنُ وَتَقِلُّ اَعْمَارُ الصَّالِحِيْنَ وَافْتَرَقَ النَّاسُ عَلَى فِرَقِ مِّنَ الْاَهْوَاءِ جب وہ چلا جائے گا دین کمزور ہوجائے گا، یقین کم ہوجائے گا، صالحین کی عمریں   کم ہوجائیں   گی اور لوگ گروہ در گروہ ہوجائیں   گے۔‘‘
٭…’’فُتِحَتْ اَقْفَالُ جَهَنَّمَ فَيَدْخُلُ فِيْ جَهَنَّمَ مِنَ الْآدَمِيِّيْنَ كَثِيْرٌ جہنم کے تالے ٹوٹ جائیں   گے اور لوگ اس میں   داخل ہونا شروع ہوجائیں   گے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم لوگوں   کو جہنم سے بچانے والے ہیں  :
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن دینار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا:’’ سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہہ رہے ہیں  :’’اِنَّكَ عَلٰى بَابٍ مِّنْ اَبْوَابِ النَّارِیعنی سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جہنم کے دروازوں   میں   ایک دروازہ پر ہیں  ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ سن کر خوف طاری ہوا اور بار بار کہنے لگے:’’ جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے گا، جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے گا۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور کہا: ’’ مَرَّةًفِی الْجَنَّۃِ وَمَرَّۃً فِی النَّارِیعنی کیا کوئی شخص بیک وقت جنت اور جہنم دونوں  میں   جاسکتا ہے؟ ( یعنی مجھے نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے جنت کی بشارت دی ہے اور آپ مجھے جہنم کے دروازے پر کھڑا کررہے ہیں  ۔)انہوں   نے عرض کیا: ’’ اے امیر المومنین! کیا بات ہے اور میرے بارے میں   آپ کو کیا خبر پہنچی ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے فلاں   شخص نے بتایا ہے کہ تم نے میرے متعلق یہ کہا ہے۔‘‘ انہوں  نے عرض کیا:’’اَجَلْ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ اِنِّيْ لَاَجِدُكَ عَلٰى بَابٍ مِّنْ اَبْوَابِ النَّارِ قَدْ سَدَدَّتَهُ اَنْ يَدْخُلَیعنی جی ہاں   میں   نے یہ کہا ہے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا منصب بھی یہی ہے۔ خدا کی قسم! آپ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
 … تاریخ ابن عساکر،   ج۴۴، ص۳۳۴۔