تَعَالٰی عَنْہ اٹھے تو غصے سے اُن کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا، اٹھتے ہی اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ حاضر ہوئے اور عرض کیا:’’ يَا اَبَةِ اَمَا سَمِعْتَ مَا قَالَ اِبْنُ سَلَامٍ لِيْیعنی اے ابا جان!کچھ سنا آپ نے!عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کیا کہا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’کیا بات ہے؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟‘‘حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:’’ انہوں نے آپ کو جہنم کا تالا کہا ہے۔‘‘
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: ’’اَلْوَيْلُ لِعُمَرَ اَنَّ كَانَ بَعْدَ عِبَادَةِ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً وَمُصَاهَرَتُهُ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَضَايَاهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِيْنَ بِالْاِقْتِصَادِ اَنْ يَّكُوْنَ مَصِيْرَهُ اِلٰى جَهَنَّمَ حَتّٰى يَعْنِيْ يَكُوْنُ قُفْلًا لِجَهَنَّمَیعنی عمر کا ٹھکانہ جہنم ہو بلکہ وہ اس کا تالا بن جائے تو اس کے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔ اگرچہ وہ چالیس سال تک عبادت کرتا رہے، اس کا رسول اللہ سے سسرالی رشتہ بھی ہو، لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ بھی کرے۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سبز چادر زیب تن کی، فاروقی درہ کندھے پر رکھا اور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس پہنچے۔استفسار فرمایا: ’’يَا اِبْنَ سَلَامٍ بَلَغَنِيْ اَنَّكَ قُلْتَ لِاِبْنِيْ قُمْ يَا اِبْنَ قُفْلِ جَهَنَّمیعنی اے عبداللہ بن سلام ! آپ نے میرے بیٹے کو یہ کہا ہے: اے جہنم کے تالے کے بیٹے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا:’’ جی ہاں ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’كَيْفَ عَلِمْتَ اَنِّيْ فِيْ جَهَنَّمَیعنی تمہیں میرے جہنمی بلکہ جہنم کا تالہ ہونے کی خبر کیسے ہوئی؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:’’مَعَاذَ اللہِ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْ تَكُوْنَ فِيْ جَهَنَّمَ وَلَكِنَّكَ قُفْلُ جَهَنَّمیعنی اے امیر المومنین! میں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جہنمی نہیں کہابلکہ جہنم کا تالا کہاہے۔‘‘ فرمایا اس کاکیا مطلب؟‘‘ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے میر ے والد گرامی نے اپنے والد اور داداسے روایت کرتے ہوئے یہ بات بتائی کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام سے سن کر یہ بات ارشاد فرمائی:
٭…’’يَكُوْنُ فِيْ اُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت میں ایک شخص آئے گا، جسے لوگ عمر بن خطاب کہیں گے۔‘‘
٭…’’اَحْسَنُ النَّاسِ دِيْناً وَاَحْسَنُهُمْ يَقِيْناً مَا دَامَ بَيْنَهُمُ الدِّيْنُ عَالِي وَالدِّيْنُ فَاشٍ وہ سب سے