خانہ، مال، جان ، اولاد اور پڑوسیوں کے بار ے میں ہوتا ہے جو روزہ، نماز، صدقہ ، اور نیکی کے حکم دینے اور برائی سے روکنے کی وجہ سے مٹ جاتا ہے۔‘‘یہ حدیث پاک سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ لَيْسَ هَذَا اُرِيدُ وَلَكِنَّ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُیعنی یہ حدیث پاک نہیں بلکہ میں اس حدیث کی بات کررہاہوں جس میں اس فتنہ کی بات ہے جو سمندر کی طرح موج مارے گا۔‘‘ میں نے کہا :’’اے امیر المومنین ! آپ کا اس سے کیا واسطہ، ابھی تو اس فتنے کا دروازہ بند ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ اَيُكْسَرُ اَمْ يُفْتَحُیعنی وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’يُكْسَرُیعنی توڑا جائے گا اور پھر کبھی بند نہیں ہوسکے گا۔‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بعد میں پوچھا: ’’اَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَیعنی کیا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس دروازے کا علم تھا؟‘‘ انہوں نے کہا:’’نَعَمْ! كَمَا اَنَّ دُوْنَ الْغَدِ اللَّيْلَةَجی ہاں بالکل علم تھا بلکہ ایسے علم تھا جیسے کل دن سے پہلے رات کا آنا یقینی معلوم ہوتاہے اور ہاں ! میں نے انہیں جو کچھ بتایا وہ کوئی غلط باتوں کا مجموعہ نہیں تھابلکہ بالکل صحیح باتیں تھیں ۔‘‘ بہرحال صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ان کی ہیبت کے پیش نظر کوئی سوال نہ کرسکے البتہ ان کے غلام سیِّدُنا مسروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :’’اَلْبَابُ عُمَرُیعنی فتنوں کو روکنے والا وہ دروازہ خود امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم جہنم سے بچانے والےہیں
فاروقِ اعظم جہنم کا تالاہیں :
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے گزرے جو آرام فرمارہے تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُن کا پاؤں ہلا کر کہا:’’ کون ہو؟‘‘ انہوں نے کہا:’’ امیر المومنین کا بیٹا عبداللہ ہوں ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا:’’ قُمْ يَا اِبْنَ قُفْلِ جَهَنَّمیعنی اے جہنم کے تالے کے بیٹے! اٹھ جاؤ۔‘‘ اپنے والد محترم کے متعلق یہ الفاظ سن کر حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ،کتاب مواقیت الصلوۃ ،باب الصلوۃ کفارۃ،ج۱، ص۱۹۵، حدیث:۵۲۵۔