Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
372 - 831
فاروقِ اعظم فتنوں   کوروکنے کا تالا ہیں  
فاروقِ اعظم کے ہوتے کوئی فتنہ نہیں   ہوگا:
حضرت سیِّدُنا حسن فردوسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا ابوذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملے اور مصافحہ کرتے ہوئے زور سے ان کا ہاتھ دبایا۔ سیِّدُنا ابوذرغفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بولے: ’’دَعْ يَدِيْ يَا قُفْلَ الْفِتْنَةِیعنی اے فتنے کے تالے! میرا ہاتھ چھوڑ دیں  ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’اے ابوذر !فتنے کے تالے کا کیا مطلب ؟‘‘ انہوں   نے عرض کیا:’’آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک دن سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے اورہم ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں   کی گردنیں   پھلانگ کر آگے آنے کے بجائے پیچھے ہی بیٹھنا پسند کیا۔چنانچہ آپ تمام کے پیچھے بیٹھ گئے۔ آپ کو دیکھ کر دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا: ’’لَا تُصِيْبُكُمْ فِتْنَةٌ مَّا دَامَ هٰذَا فِيْكُمْیعنی جب تک یہ عمر تمہارے درمیان موجود ہے، تمہیں   کوئی فتنہ نہیں   پہنچے گا۔ (یعنی فتنوں   کے دروازے پر تالا لگا رہے گا۔) (1)
فاروقِ اعظم فتنوں   کوروکنے کا دروازہ ہیں  
فاروقِ اعظم فتنوں   کو روکنے والادروازہ ہیں  :
حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ہم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’اَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِیعنی فتنے کے بارے میں   کسی کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی کوئی حدیث یاد ہے؟‘‘ میں   نے عرض کیا: ’’مجھے یاد ہے۔‘‘ فرمایا:’’سناؤ تمہارا یہی منصب ہے۔‘‘ میں   نے حدیث سناتے ہوئے کہاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے میں   نے یہ سنا ہے کہ’’فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالْاَمْرُ وَالنَّهْيُیعنی انسان کا فتنہ اس کے اہل 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…تاریخ ابن عساکر ،ج۴۴، ص۳۳۴۔