Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
370 - 831
غیرت یاد آئی تو میں   واپس لوٹ آیا۔‘‘حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سن کر رو پڑے، ہم بھی مجلس میں   بیٹھے تھے۔ وہ کہنے لگے:’’اَوَعَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اَغَار ُیعنی  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! کیا مجھے آپ پر غیرت آ سکتی ہے؟‘‘(1)
عربی نوجوان کا جنتی محل:
حضرت سیِّدُنا بریدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے صبح کے وقت حضرت سیِّدُنا بلال حبشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور فرمایا:’’يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي اِلَى الْجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ اِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ اَمَامِيیعنی ا ے بلال! تم جنت میں   مجھ سے پہلے کیسے چلے گئے؟ میں   جنت میں   جب بھی گیا ہوں   تمہارے قدموں   کی آہٹ میرے آگے ہوتی ہے۔‘‘پھر ارشاد فرمایا: ’’ آج رات میں   جنت میں   گیا تو تمہارے قدموں  کی آواز میرے آگے آگے تھی، میں   نے وہاں   ایک بہت بلند سونے کا محل دیکھا۔‘‘پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنتی فرشتوں   اور اپنے درمیان ہونے والے مکالمے کویوں   بیان فرمایا: 
٭…میں   نے کہا: ’’لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُیعنی یہ محل کس کا ہے؟ ‘‘
		جنتی فرشتے کہنے لگے :’’لِرَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِیعنی عرب کے ایک آدمی کا ہے۔‘‘
٭…میں   نے کہا: ’’اَنَا عَرَبِيٌّ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ یعنی عربی تو میں   بھی ہوں   پھریہ کس کا ہے؟‘‘
		وہ کہنے لگے:’’لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍیعنی وہ آدمی قرشی بھی ہے۔‘‘
٭…میں   نے کہا :’’اَنَا قُرَشِيٌّ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُیعنی قرشی تو میں   بھی ہوں   پھریہ کس کا ہے؟‘‘ 
		وہ کہنے لگے: ’’لِرَجُلٍ مِنْ اُمَّةِ مُحَمَّدٍیعنی وہ شخص امت محمدیہ میں  سے ہے۔‘‘
٭…میں   نے کہا: ’’اَنَا مُحَمَّدٌ لِمَنْ هَذَا الْقَصْریعنی محمد تومیں   ہوں  پھر یہ میرے کس امتی کا ہے؟‘‘
		وہ کہنے لگے :’’لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِیعنی یہ عمر بن خطاب کا ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا بلال حبشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دیا:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ایک عمل تو یہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…بخاری ،کتاب النکاح، باب الغیرۃ، ج۳، ص۴۷۰، حدیث:۵۲۲۷۔