حَتَّى اَلْقِىَ بِهَا رَبِّيْیعنی جب میرا انتقال ہوجائے اور تم مجھے کفن اور غسل دے چکو تو اسے میرے کفن میں رکھ دینا میں اسے اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کر دوں گا۔‘‘ چنانچہ آپ کے انتقال کے بعدوہ تحریر آپ کے کفن میں ڈال دی گئی۔(1)
فاروقِ اعظم کا جنت میں تیار شدہ محل :
حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد حضرت سیِّدُنا عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا وہاں میں نے سونے اور جواہرات سے بنا ہواایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا:’’یہ محل کس کا ہے ؟‘‘ کہا گیا: ’’یہ عمر فاروق کا محل ہے۔‘‘تو میں نے اس میں داخل ہونا چاہا، مگر اے عمر ! مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے ماں باپ آپ پرقربان! کیا میں آپ پر غیرت کھائوں گا؟‘‘(2)
قرشی نوجوان کا جنتی محل:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جنت میں ایک محل دیکھا تومیں نے کہا: ’’یہ کس کا ہے؟‘‘بتایا گیا کہ ’’یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا :’’وہ نوجوان کون ہے؟‘‘ کہا گیا :’’عمر بن خطاب ہے۔‘‘(3)
یہ محل کس کا ہے۔۔۔؟
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایاکہ میں نے خواب میں ایک بار خود کو جنت میں دیکھا، وہاں ایک محل کی دیوار کے ساتھ ایک عورت وضوکررہی تھی،میں نے کہا :’’یہ محل کس کا ہے ؟‘‘ وہ کہنے لگی:’’ عمر بن خطاب کا ہے۔‘‘ تو اے عمر ! مجھے تمہاری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ ،ج۱، ص۳۱۱۔
2…بخاری ،کتاب النکاح ،باب الغیرۃ، ج۳، ص۴۷۰، حدیث:۵۲۲۶۔
3…مسند امام احمد ،مسند انس بن مالک ،ج۴، ص۲۱۵، حدیث:۱۲۰۴۶۔